حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 403 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 403

حقائق الفرقان ۴۰۳ و سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی دوسرے کو پکارے اور اس کے حکم کے سوائے کسی دوسرے کی اطاعت پر قدم مارے اور اس کے سوائے کسی دوسرے کو اپنا رب بنائے۔خواہ کوئی اور کیسا ہی عالم فاضل ہو اور راہب ہو۔کیا وہ اپنے رب کو چھوڑ کر اور ان کے پیچھے پڑ کر معصیت میں گر سکتا ہے۔کیا ممکن ہے کہ کوئی شخص اس کلمہ توحید پر ایمان رکھتا ہو اور پھر خلقت کے ساتھ ایسی محبت کرے جیسی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرنی چاہیے۔پس مومن اس کلمہ کو اپنے پاس رکھ کر اور اس پر ایمان لا کر نہ غیر اللہ سے کوئی امید رکھتا ہے اور نہ غیر اللہ سے اس کو کچھ خوف باقی رہ جاتا ہے۔پس مومن کبھی یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی دوسرے کو علم تام ہے یا کسی اور کے ہاتھ میں تصرف تام ہے۔یا اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی کسی قسم کی بھی عبادت کے لائق ہے۔چہ جائیکہ کسی غیر کے آگے سجدہ کیا جاوے یا اس کے واسطے حج کیا جاوے یا اس کے لئے قربانی کی جائے۔پس مومن اللہ کے سوائے کسی سے استغفار نہیں کرتا اور اس کے سوائے کسی کے آگے اپنے گناہوں سے تو بہ نہیں کرتا۔اور مومن کبھی ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا کہ کوئی اللہ کے خلق کی طرح کسی چیز کا خلق کر سکتا ہے یا اللہ کے مارنے اور جلانے کی طرح کوئی کسی کو مار یا جلا سکتا ہے۔غرض مومن خالق اور مخلوق کو کبھی برابر نہیں ٹھہراتا۔اور خیر کثیر میں یہ بات بھی شامل ہے جو آنحضرت کو عطا کی ہے کہ آپ نے (صلی اللہ علیہ وسلم) تمام مقربانِ الہی کا دامن ان تہمتوں اور افتراؤں سے پاک کیا جو کہ ان پر ان کے مخالف یا موافق لگاتے تھے۔یہود کی طرف دیکھو کہ مریم صدیقہ کی نسبت کیا الفاظ بولتے ہیں۔خود قرآن شریف سے ظاہر ہے جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے مریم پر بڑا بہتان باندھنے کا کفر کیا اور ایسا ہی یہود نے حضرت عیسی پر بھی اتہام باندھے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں کفار کی باتوں سے تیری تطہیر کر نیوالا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔اور ایسا ہی ان کا اور عیسائیوں کا قول حضرت داؤ د اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے حق میں تہمت اور افتراء کا تھا اور خدا تعالیٰ نے ہر دو کا دامن اپنی پاک کتاب میں پاک کیا اور دا ؤ دکو اپنا بندہ فرمایا اور سلیمان کے