حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 399
حقائق الفرقان ۳۹۹ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ نماز سے مراد عید الاضلح کی نماز ہے۔اور قربانی سے مراد بھی اس عید کی قربانی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان نمبر ۲۶ جلد ۱۲ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۵۸ تا ۳۶۰) اس کے بعد عربی تفسیر میں صرف ونحو کا وہ حصہ ہے جو عام فہم نہیں ہے۔اس واسطے اس کو چھوڑا جاتا ہے۔لیکن اس میں سے چند باتیں بطور اختصار کے درج کی جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے عطائے کوثر کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے اول حرف تاکید کا فرمایا ہے۔پھر صیغہ ماضی میں بیان کیا ہے۔یہ بھی ایک تاکید ہے۔اور دیگر صرفی نحوی تاکیدیں بھی ان الفاظ میں ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کا اظہار آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا ہے۔آپ کے واسطے کوثر کا ملنا ایک امر مقدر ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت سے آپ کو عطا ہوا ہے۔ایسالفظ آخظی کا استعمال بھی اسی فضلِ عظیم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ورنہ صرف دینے کے مفہوم کے واسطے عربی میں لفظ آئی بھی آسکتا تھا۔ایسا ہی اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ک کے ساتھ خطاب فرمایا ہے۔کہ ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے اور ایسا نہیں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسول یا نبی یا عبد کو کوثر عطا کیا ہے۔اس میں بھی رحمانیت کے خاص فضل اور عطاء کا تذکرہ ظاہر کیا ہے۔ایسا ہی اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر میں بھی دشمن کے بےنسل ہونے کو بہت سی تاکیدوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے یہ بات ضرور ہو جانے والی ہے۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ الماعون ) سے یہ تعلق ہے کہ سورہ ماعون میں ایسے شخص کا ذکر کیا ( گیا ہے جو کہ مذب بالدین۔بخیل۔تارک صلوۃ۔ریا کار۔مال زکوۃ اور مانع ماعون ہے اور اس اے چکڑالوی لوگ اس پر توجہ کریں۔رسول کے لفظ کے معنے تو وہ قرآن شریف کر دیتے ہیں۔تو کیا یہاں بھی ك میں مخاطب قرآن شریف ہے اور قرآن شریف کو حکم ہوا ہے کہ اسے قرآن تو نماز پڑھا کر اور اسے قرآن تو قربانی دیا کر۔غور کرو کہ یہ خطاب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔اور آپ کو کوثر عطا کیا گیا ہے اور اس کوثر میں خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی پاک تفہیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی۔کیا چکڑالوی کو قرآن کی تفہیم ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نہ ہوئی تھی۔(ایڈیٹر )