حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 398
حقائق الفرقان ۳۹۸ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل سے کہا کہ اس وحی الہی میں بحیرہ سے کیا مراد ہے جس کا حکم خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اس سے مراد کوئی قربانی نہیں ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ نے اس میں آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ جب آپ نماز پڑھیں اور اللہ اکبر کہیں تو اس وقت اپنے ہاتھ اٹھایا کریں اور جب رکوع کریں اور جب رکوع سے سر اٹھا ئیں تو اس وقت بھی ہاتھ اٹھایا کریں۔یہ ہماری نماز ہے اور یہی ان سب فرشتوں کی نماز ہے جو کہ سات آسمانوں میں ہیں۔اور ہر ایک چیز کے واسطے ایک زینت ہوتی ہے۔پس نماز کی زینت یہ ہے کہ ہر ایک تکبیر کے وقت رفع یدین کی جاوے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دفع يَدَيْین کرنا وہ استکانت ہے۔جس کا ذکر قرآن شریف کی اس آیت میں ہے کہ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ۔(المومنون : ۷۷) اور ابن ابی شیبہ سے روایت ہے اور بخاری اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور دار قطنی اور ابوالشیخ اور حاکم اور ابن مردویہ اور بیہقی نے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر کے متعلق روایت کی ہے کہ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں کلائی کے وسط پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو نماز میں اپنے سینہ پر رکھا اور ابوالشیخ اور بہیقی نے اپنی کتاب میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ اور بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر سے یہ مراد ہے کہ جب تو نماز پڑھے اور ا پنا سر رکوع سے اونچا کر لے تو سیدھا کھڑا ہوجا اور ابی الاحوص سے روایت ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر سے یہ مراد ہے کہ اپنی قربانی لے کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو۔اور ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ فَصَلِّ لِرَتِكَ وَانْحَر میں صلوۃ سے مراد فرض نماز ہے اور قربانی سے مراد عید الاضحی کی قربانی ہے۔لے تو وہ جھکتے نہیں اپنے رب کے سامنے اور نہ عاجزی ہی کرتے ہیں۔