حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 396 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 396

حقائق الفرقان ۳۹۶ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ اس قول کو درست قرار دیا گیا ہے۔اور نووی نے مسلم کی شرح میں بھی اسی بات کو ترجیح دی ہے۔احمد اور مسلم اور ابوداؤد اور نسائی اور بیہقی نے اپنی کتابوں میں اور ایسا ہی ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن مردویہ اور ابن ابی شیبہ نے ابن مالک سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تک سر نیچے رکھا اور پھر سر اٹھا کر تبسم فرمایا اور کہا کہ ابھی مجھ پر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔پھر سورۃ کوثر پڑھی۔لفظ کوثر۔بخاری اور حاکم اور ابن جریر نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا۔کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا شئے ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔تب آپ نے فرمایا۔کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے۔جو میرے رب نے مجھے عطا کی ہے۔وہ نہر جنت میں ہے۔اس میں خیر کثیر ہے۔قیامت کے روز میری امت اس پر وارد ہوگی۔اس کا برتن ستاروں جتنا وسیع ہے۔ان میں سے ایک آدمی اس پر سے ہٹایا جاوے گا تو میں کہوں گا کہ میرے رب۔یہ تو میری امت کا آدمی ہے۔اسے کیوں ہٹایا جاتا ہے۔تو جواب ملے گا کہ تو نہیں جانتا کہ اس نے تیرے بعد کیسی نئی باتیں نکالی تھیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوثر اس خیر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی ہے۔ابو بشر لکھتا ہے کہ میں نے سعید بن جبیر کو کہا کہ لوگ تو خیال کرتے ہیں کہ کوثر جنت میں نہر کا نام ہے۔اور آپ کہتے ہیں وہ خیر ہے تو سعید نے کہا کہ جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اسی خیر میں سے ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے رسول کو عطا کی ہے۔حدیث شریف کی کتاب نسائی میں فی الجنة کی بجائے في بَطْنَانِ الْجَنَّةِ آیا ہے بَطْنَانِ الْجَنَّةِ کے معنے ہیں بہشت کے وسط میں۔ابن ابی شیبہ اور احمد اور ترمذی نے یہ روایت بیان کی ہے اور اس کو صحیح بتلایا ہے اور ابن ماجہ اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن مردویہ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے کہ