حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 391
حقائق الفرقان وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ - ترجمہ اور روکتے ہیں برتنے کی چیز سے۔۳۹۱ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ اور منع کرتے ہیں برتنے کی چیز سے۔ماعون بروزن فاعول تھوڑی چھوٹی اور ادنی شئے کو کہتے ہیں جو ایک دوسرے کو مانگنے سے استعمال کے واسطے دی جاوے تو دینے والے کا حرج نہ ہو اور لینے والے کو فائدہ ہو جاوے۔جیسا اس ملک میں پینے کے لئے پانی چولہے کی آگ تھوڑا نمک ، کلہاڑی، ہاون دستہ وغیرہ۔گھر میں ایسی اشیاء کا رکھنا جو ہمسایہ کے کام کبھی کبھی آویں۔موجب ثواب ہے۔بعض کے نزدیک ماعون زکوٰۃ کو کہتے ہیں۔اس سورہ شریف میں جو نشانیاں مکذبانِ دین کے واسطے بیان کی گئی ہیں وہ سب یوروپ کے عیسائیوں پر ایسی چسپاں ہوتی ہیں کہ گویا یہ سورہ شریف ان کے ہی حق میں نازل ہوئی تھی۔سب سے اول دین کی تکذیب ہے۔سو یوروپ کے علماء ہی ہیں جنہوں نے دنیا میں سب سے پہلے یہ بات ظاہر کی ہے کہ دین ایک لغو امر ہے۔مذہب کی طرف توجہ ہی کرنا بے فائدہ سمجھتے ہیں۔یتیم اور مساکین کو جھڑ کنے کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی مسکین اور یتیم راہ میں کسی سے سوال کر بیٹھے تو وہ مجرم گردانا جا کر جیل خانہ میں بھیجا جاتا ہے۔کسی غریب کو اپنے گھر بلا کر روٹی کھلانا یا مسافر کی خاطر داری کر نا زمانہ جہالت کا طریق خیال کیا جاتا ہے۔نماز سے غفلت کا یہ حال ہے کہ ہفتہ میں ایک دن اور اس دن میں بھی ایک گھنٹہ نماز کے واسطے مقرر ہے۔اس میں کوئی دس فیصدی عیسائی گرجا جاتے ہوں گے۔ہاں دکھاوے کے کام بہت ہیں۔چندوں کی لمبی فہرستیں شائع کی جاتی ہیں۔ایک دوسرے کو برتنے کے واسطے کوئی شئے لینا دینا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔اس سے خیال پڑتا ہے کہ شاید یہ سورۃ بھی دجال کے حق میں ہی نازل ہوئی ہو۔جس کے مقابلہ کے واسطے خدا نے اس زمانہ میں اپنا مسیح بھیجا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۵۷) ماعون۔برتنے کی عام چیزیں ماعون کہلاتی ہیں۔تفخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۸)