حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 379
حقائق الفرقان ۳۷۹ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ جَهَنَّمَ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ" وَيْلٌ وَادِيُّ الَّذِي يَسِيْلُ مِنْ صَدِيدِ أَهْلِ 66 عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ " يُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ وَ تَارِكُونَ قَالُواهُمُ الْمُنَافِقُونَ فَمِن هَذَا قَالُوا نِصْفُ السُّورَةِ مَكَّي وَنِصْفُهَا مَدَنِي وَسَاءَ لاة۔الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ النَّاسَ فِي أَعْمَالِهِمُ الْفَاضِلَةِ " وَيَصْنَعُونَ الْمَاعُونَ “ الْمَاعُونَ الْمَنْفَعَةُ الْمَاءُ الَّذِي يَنْزِلُ مِنَ السَّحَابِ مَاعُونَ قَالَ عَبْدُ الرَّاعِي - قَوْم عَلَى الْإِسْلَامِ لَمَا يَمْنَعُوا مَاعُونَهُمْ وَ يَضِيعُوا التَّهْلِيلا أَى الطَّاعَةُ وَالنَّكوةُ۔وَقَالَ عَلَى الْمَاعُونُ الزَّكوةُ وَالصَّدَقَةُ الْمَفْرُوْضَةُ۔قَالَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَ ابْنُ عُمَرَ وَالْمَتَاعُ الَّذِي يَتَعَاطَاهُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ كَالْقِدْرِ وَالتَّلْوِ وَ الْفَأْسِ وَ شبهة عربی تفسیر کا ترجمہ۔کیا تو نے اس شخص کا حال دیکھا ہے۔جو دین کو جھٹلاتا ہے۔ایسے ہی ایک مکذب ابرھہ نام شاہ حبش کا ذکر اس سورہ شریف سے پہلے سورہ فیل میں ہو چکا ہے۔اور اس کے بدانجام کا ذکر کیا جا چکا ہے۔اس سورہ شریف کے ابتدا میں بطور استفہام کے لکھا گیا ہے کہ کیا تو اس مکذب کو جانتا ہے۔یہ استفہام اس واسطے ہے کہ سننے والے کو اس مکذب کے معلوم کرنے کا خیال پیدا ہو۔دین سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب اور عقاب ہے جو کہ انسان کو اس کے اعمال پر ملتا ہے۔مکذب وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہ کرے اور اس کی مناہی سے پرہیز نہ کرے اور ابن عباس نے لکھا ہے کہ مکذب وہ ہے۔جو خدا کے حکم کی تکذیب کرے اور ابن جریح اور مجاہد نے کہا ہے کہ مکذب وہ ہے۔جو وقت حساب کا انکار کرے۔