حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 365
حقائق الفرقان ۳۶۵ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ قرآن شریف میں ہر آیت کے ساتھ اس کا شان نزول درج نہیں۔ابتدا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کے درمیان کبھی شان نزول یا مقام نزول ساتھ ساتھ نہیں لکھائے۔جیسا کہ توریت انجیل میں اور دیگر صحف انبیاء میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ یا عیسی یا کوئی اور نبی پھر اس مقام پر گیا اور اس آدمی کو ملا۔اور اس وقت اس پر یہ وحی نازل ہوئی یا خود اس نے یہ کلام کیا۔برخلاف اس کے قرآن شریف اول سے خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور ایک سمندر کی طرح اس کی روانی ہے جس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔بشر کے کلام کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔چونکہ یہ کلام نہ کسی خاص مکان کے واسطے تھا اور نہ کسی خاص قوم کے واسطے جیسا کہ توریت انجیل وغیرہ دیگر کتب سماوی ہیں۔اس واسطے اس میں شان۔۔۔۔۔۔نزول ساتھ ساتھ نہ لکھے گئے بلکہ خدا تعالیٰ نے یہی چاہا کہ اس بات کی حفاظت بھی پورے طور سے نہ ہوئی کہ یہ آیتیں کب اور کس کے حق میں اول نازل ہوئی تھیں۔یہاں تک کہ ترتیب نزولی بھی خدا تعالیٰ نے قائم نہ رہنے دی۔قرآن شریف کی ترتیب اور اس کے درمیان شان نزول اور مقام نزول کا نہ لکھا جانا خود اس بات کی ایک بڑی بھاری دلیل ہے کہ یہ کتاب بر خلاف دیگر کتب سماوی کے تمام زمین کے واسطے اور قیامت تک سب زمانوں کے واسطے اور سب قوموں کے واسطے خدا تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔نام۔اس سورہ شریف کا نام سورہ قریش ہے کیونکہ اس میں قریش کا خاص ذکر ہے اور اس سورۃ کو اس کے پہلے لفظ کے سبب لا یلف بھی کہتے ہیں۔ربط ماقبل اور مابعد کے ساتھ۔اس سورہ کے ماقبل قرآن شریف میں سورۃ الفیل ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ یمن کا بادشاہ ابرھ جب بہت سے ہاتھی لے کر خانہ کعبہ کوگرانے کے واسطے مکہ معظمہ پر حملہ آور ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کے لشکر کو ہلاک کر کے اس گھر کی حفاظت کی۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک انعام تھا۔جو بالخصوص قریش پر ہوا۔کیونکہ قریش یمن اور شام کی طرف تجارۃ کے واسطے جایا کرتے تھے اور ابرھ کی اس ہلاکت سے تمام قوموں پر خانہ کعبہ کی عظمت کا رعب چھا گیا اور وہ لوگ قریش کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔اللہ تعالیٰ اسی انعام کو یاد دلا کر قریش کو اپنی عبادت کی