حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 364 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 364

حقائق الفرقان ۳۶۴ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ دعا کے مطابق ہے کہ میرے پروردگار اس شہر کو امن کی جگہ بنا۔اس دعائے ابراہیمی کی قبولیت کے سبب قریش بڑے عیش و آرام میں زندگی بسر کرتے تھے۔حالانکہ ان کے گردونواح کی مخلوق ہلاکت میں پڑی ہوئی تھی۔اسی مضمون کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں سورہ نحل میں بھی اشارہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک گاؤں کی مثال بیان فرمائی ہے۔جس کے باشندے اطمینان کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ہر طرف سے اس کو رزق با فراغت پہنچتا تھا۔پھر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی جس پر خدا نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب وارد کیا۔جوان کی اپنی بد عملیوں کا نتیجہ تھا۔شمار :۔اس سورہ شریف میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد چار آیتیں اور تیرہ کلمے اور تہتر حروف ہیں۔مقام نزول :۔یہ سورہ شریف جمہور کے نزدیک مکی ہے۔مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی۔قریش کو خاص خطاب اور رب البیت کی عبادت کا حکم بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ سورہ شریف کی ہے بعض بزرگوں کا یہ قول بھی ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے اس اختلاف کی صورت میں وہی امر مد نظر رکھنا چاہیے۔جو ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ بعض آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ ایک بار بلکہ کئی بار نازل ہوئی ہوں اور کسی نے نزول اول کے مقام اور وقت کو یا درکھا ہو اور کسی نے نزول دوم کے مقام اور وقت کا خیال رکھا ہو۔اس کا نظارہ ہم اس تازہ وحی الہی میں بھی دیکھتے ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام پر نازل ہوتی ہے کہ ایک پیشگوئی وحی الہی میں ایک دفعہ نازل ہو کر مثلاً کتاب براہین احمدیہ میں چھپ چکی ہے۔لیکن جب اس کے پورا ہونے کا وقت آ گیا۔تو نزول اول کے بین ۲ پچیس سال بعد پھر وہی الفاظ الہام الہی میں وارد ہوئے اور اخبار میں ایک تازہ تاریخ کے نیچے لکھے گئے۔اس جگہ شانِ نزول و مقام نزول کے اختلاف میں اس نکتہ کا دوبارہ لکھنا فائدے سے خالی نہ ہوگا۔جو کہ ہم سورہ الماعون کی تفسیر میں لکھ چکے ہیں کہ یہ بھی حکمت الہی ہے کہ انجیل اور توریت کی طرح