حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 363

حقائق الفرقان ۳۶۳ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ باپ پر تعجب ہے کہ اس کا بیٹا کیسا مبصر اور شاعر ہے۔راغب اور ہروی نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ الف ایسے طور پر اکٹھا کرنے کو کہتے ہیں کہ مجتمع اشیاء میں پوری پیوشکی ہو۔ایلاف سے مراد وہ عہد واقرار ہیں جو قریش اور اس وقت کے ملوک کے درمیان قرار پاچکے تھے۔ہاشم کا عہد و پیمان بادشاہ شام کے ساتھ تھا اور مطلب کا کسری کے ساتھ تھا اور عبد شمس اور نوفل کا عہد و پیمان مصر اور حبشہ کے بادشاہوں کے ساتھ۔الف کے معنے معاہدہ اور مصالحت کے ہیں۔قریش نضر بن کنانہ کا بیٹا تھا۔حضرت معاویہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا تھا کہ قریش کے لفظ کے کیا معنے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ قریش ایک سمندری چار پایہ کا نام ہے اور اس پر حجمی کے اشعار کو بطور ذیل کے پڑھا جن کے یہ معنے ہیں کہ قریش وہ جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اُسی کے نام پر قبیلہ کا نام قریش ہوا وہ دُبلے اور موٹے سب کو کھا جاتا ہے اور کسی پروں والے کے پر باقی نہیں چھوڑتا۔فراء کا قول ہے کہ لفظ قریش لفظ تقرش سے نکلا ہے اور تقرش کے معنی کسب کمائی ہے چونکہ یہ قبیلہ تجارت کرتا تھا اس واسطے اس کا نام یہ ہو گیا۔ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ لفظ تقرش سے نکلا ہے جس کے معنے تفتیش کے ہیں۔حرث بن حلزہ کا ایک شعران معنوں کی تائید کرتا ہے اس شعر کے یہ معنے ہیں۔اے ہمارے دشمن عیب تلاش کرنے والے عمر کے پاس ہے کیا تو ہمارا پیچھا چھوڑے گا یا نہیں۔قریش کا یہ نام اس واسطے ہوا کہ ان کے بزرگ اہل حاجات کو تلاش کرتے تھے کہ ان کی حاجتیں پوری کریں اور بھوکوں کو خوراک دینے کے واسطے تلاش کرتے تھے اور اس جگہ تصغر تعظیم کے واسطے ہے۔اس سورہ شریف میں جو یہ حکم ہوا ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کرو۔جس نے تم کو بھوک سے غنی کرنے کے لئے کھانا کھلایا یہ آیت شریف حضرت ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام والبرکات کی اس