حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 355
حقائق الفرقان ۳۵۵ سُورَةُ الفِيْل ہیں تو ہمارا وہ رب ہے جو اصحاب فیل کو ہلاک کر چکا ہے۔بہت ڈر گیا اور معذرت کی جس پر تعلقات درست ہو گئے۔مگر پھر بغداد کا حال ہمیں معلوم ہے۔وہ محمود غزنوی جو خلیفہ کے اَلَمْ اَلم سے ڈر گیا تھا۔اسی پای تخت کو ہلا کو اور چنگیز نے تباہ کر دیا۔ایک ہزار شخص جن پر سلطنت کے متعلق دعویٰ کا گمان تھا ان سب کو دیوار میں چن دیا۔وہ بی بی جس کا نام نسیم السحر رکھا تھا ایک گلی میں اس حالت میں دیکھی گئی کہ کتے اس کا لہو چاٹ رہے تھے۔اور پھر میری آنکھوں کے سامنے بخارا، سمرقند ، دہلی، لکھنؤ اور طرابلس کی سلطنتیں مٹ گئیں۔دہلی کے شہزادوں میں سے ایک کو میں نے جموں میں ستار بجاتے میراسیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔الفضل جلد نمبر ۱۷ مورخه ۸ /اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) سورة أَلَمْ تَرَ كَيْفَ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدر اور مرتبہ ظاہر کیا ہے۔یہ سورۃ اس حالت کی ہے جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مصائب اور دکھ اٹھا رہے تھے۔اللہ تعالیٰ اس حالت میں آپ کو تسلی دیتا ہے کہ میں تیرا مؤید و ناصر ہوں۔اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیا کیا یعنی ان کو اپنے منصوبہ اور تجویز میں نامراد رکھا اور ان کا مکر اٹھا کر ان پر ہی دے مارا۔اور چھوٹے چھوٹے جانور ان کے مارنے کے لئے بھیج دیئے ان جانوروں کے ہاتھوں کوئی بندوقیں نہ تھیں بلکہ مٹی تھی۔سجیل بھیگی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ جس طرح پر اصحاب الفیل کے حملہ سے بیت اللہ محفوظ رہا اسی طرح پر تو ان مشرکین اور مخالفین سے محفوظ رہے گا اور تیری کا میابی یقینی ہے تو منصور اور مؤید ہو گا۔یعنی آپ کی ساری کارروائیوں کو برباد کرنے کے لئے جو سامان آپ کے مخالفین کر رہے ہیں اور جو تدابیر عمل میں لاتے ہیں ان کے تباہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ان کی ہی تدبیروں اور کوششوں کو اٹھا کر انہیں ہلاک کر دے گا اور تیری ضعیف اور کمزور جماعت ان پر غالب رہے گی۔جیسے ہاتھی والوں کو ابا بیلوں نے تباہ کر دیا۔الحکم جلد ۱۴ نمبر ۱۰ مورخه ۲۱ / مارچ ۱۹۱۰ صفحه ۳)