حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 348
حقائق الفرقان ۳۴۸ سُوْرَةُ الْعَصْرِ کو نصیب نہیں ہے۔غرض عصر کے وقت کو غنیمت سمجھو۔اس عصر کے وقت میں کیا کر سکتے ہو؟ چار کاموں کے لئے ارشاد فرمایا۔وَالْعَصْرِ - إِنَّ الْإِنْسَانَ لفی خُسر ساری مخلوق گھاٹے میں ہے۔انسان گویا برف کا تاجر ہے۔برف پر ایک وقت آئے گا کہ ساری پگھل جائے گی اس لئے برف کے تاجر کو لازم ہے کہ بہت ہی احتیاط کرے۔انسان بھی اگر غور کرے تو عمر کے لحاظ سے اس کو برف کا کارخانہ ملا ہے۔ایک بچہ کی ماں اپنے بیٹے کو چار برس کا دیکھ کر خوش ہو رہی ہے لیکن حقیقت میں اس کی عمر میں سے چار برس کم ہو چکے ہیں۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر دم بدم گزرتی اور برف کی طرح پگھلتی جاتی ہے اور اس وقت کا علم نہیں جب یہ تمام ہو۔اس لئے انسان کو لازم ہے کہ اپنے وقت کی قدر کرے اور عمر کو غنیمت سمجھے اور اس تھوڑے سے دنوں میں جو اس کو مل گئے ہیں مولا کریم سے ایسا معاملہ کرے کہ ان کے گزرنے پر اس کو عظیم الشان آرام گاہ حاصل ہو۔بڑے بد بخت ہیں وہ جو اپنے بیوی بچے کے آرام کے لئے دین بر باد کرتے ہیں۔یادرکھیں کہ مال اسباب عزیزوں رشتہ داروں سے برخوردار ہونا اور فائدہ اٹھانا محض مولیٰ کریم کے فضل پر منحصر ہے۔اس سورہ شریفہ میں فرمایا کہ سب انسان گھاٹے میں پڑ رہے ہیں مگر ایک قوم نہیں۔وہ کون؟ الا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔چار باتوں کو دستور العمل بنالے تو اس عصر کے وقت سارے دن کی مزدوریوں سے زیادہ مزدوری مل جاوے۔حدیث میں لکھا ہے کہ صبح سے شام تک مزدور کے لئے ایک دینار ہے۔پس صبح والے مزدوروں نے دو پہر تک کام کیا اور چھوڑ بیٹھے، پھر اور مزدوروں نے دوپہر سے عصر تک کام کیا اور پھر کام کو ترک کر دیا۔مگر تیسری اور جماعت مزدوروں کی آئی جنہوں نے عصر سے کام کو شروع کیا آخر دن تک ، تو ان کے لئے دو دینار مزدوری ملی۔مگر قرآن شریف سے یہ ملتا ہے کہ جب ایک مومن عمل کرتا ہے تو اس کو دس گناہ بڑھ کر اجر ملتا ہے۔غرض وہ چار باتیں کیا ہیں جن کا اس سورہ میں ذکر ہے؟ ان میں اول اور مقدم ایمان ہے۔یہ عظیم الشان چیز ہے۔بدوں اس کے کوئی عمل مقبول ہی نہیں ہوتا۔ہر ایک عمل میں ضروری ہے کہ ایمان اخلاص اورصواب ہو۔یہ پتا لگانا کہ کس درجہ کا