حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 347
حقائق الفرقان ۳۴۷ سُوْرَةُ الْعَصْرِ کی نماز ہے جو عصر کی نماز ترک کرتا ہے اسے اب دن نہیں ملتا۔اسی طرح جس کو عصر کے وقت تک مزدوری نہیں ملی اب اس کا دن ضائع گیا اور اسے مزدوری نہیں مل سکتی۔اسی طرح پر رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا زمانہ عصر کا زمانہ ہے۔ایک حدیث میں تصریح آئی ہے کہ بعض قو میں صبح سے دو پہر تک مزدور بنائے گئے ہیں اور بعض دو پہر سے عصر تک مزدور بنائے گئے اور ایک قوم عصر سے غروب آفتاب تک ٹھیکہ دار ہے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا زمانہ عصر سے مناسبت رکھتا ہے۔جیسے قرآن کریم کے بعد اور کوئی کتاب نہیں اور شرائع الہیہ کے بعد اور شرع نہیں۔عصر کے بعد کسی نماز کا وقت نہیں۔پس اس عصر کی نماز کے لئے بہت تاکید میں فرمائی ہیں۔جو عصر کی نماز چھوڑتا ہے اس کا اہل و مال کاٹا گیا۔اسی نماز کے لئے فرمایا کہ یہ نماز منافق کی تمیز کا نشان ہے جو سورج کے غروب کے وقت چار ایک چونچیں سی لگا دیتا ہے۔امت محمدیہ میں آنے والے لوگوں کے لئے بھی عصر کا نمونہ ہے۔ہم کھلے طور پر مدل مبرہن دکھا سکتے ہیں۔حجت ملزمہ کی طرح یقین دلانے کو تیار ہیں اگر فطرت سلیم ہو۔یہ حقیقی وقت ہے کہ کوئی کا سر صلیب مامور ہونے والا ہو۔پس یہ عصر کا وقت ہے اس کو غنیمت جانو۔جب سایہ زرد ہوتا ہے اور آفتاب غروب ہونے کو ہوتا ہے مفید وقت جاتارہتا ہے اسی وقت منافق کی نماز کا وقت ہوتا ہے۔ایسا ہی جو قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مشرف بہ اسلام نہ ہوئی وہ آخر خلفاء کے زمانہ میں مسلمان تو ہوئے مگر وہ عزت اور شوکت ان کی نہ رہی۔رعب کے نیچے آکر کثرت کو دیکھ کر بہت سے لوگ ایک جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں مگر ابتلا کے وقت مخلص ہی شامل ہوتے ہیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کا ہن، ساحر،مفتری، مجنون کہا جاتا تھا اس وقت جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آکر ملے اور آپ کی دعوت کو قبول کیا ان کے ساتھ پیچھے آنے والے کب مل سکتے ہیں۔خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی سابقین کے ایک مٹھی جو کے برابر قدر نہیں ہو سکتی۔یہی وہ سرعظیم تھا جس کو پہنچ کر صحابہ نے ابوبکر صدیق کوحضور علیہ السلام کا جانشین بنایا۔غارثور میں جب آپ تشریف رکھتے تھے اس تیرہ و تار غار میں ساتھ جانے والا جو کچھ لے گیا ہے وہ دوسروں