حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 346
حقائق الفرقان ۳۴۶ سُوْرَةُ الْعَصْرِ حال جانتا ہوں اور میں خوب سمجھ سکتا ہوں کہ مرزا صاحب کی صحبت میں میں نے کیا پایا۔میں نے وہ کچھ پایا جواہل دنیا اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔مرزا نے مجھے کتنا بڑا آدمی بنادیا۔جارج کی سمجھ ہی میں یہ بات نہیں آسکتی۔اس لئے ارادہ الہی اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ غرباء کو ماموروں کی صحبت میں بھیج دیتا ہے اور ا کا بران فیوض سے محروم رہ جاتے ہیں۔عبداللہ ابی بن سلول اور ابو جہل بڑے آدمی تھے وہ اگر مسلمان ہو جاتے تو پھر اپنی ہی خوبی جتاتے۔اسلام کے احسان اور فضل کو کبھی تسلیم نہ کرتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے غرباء کو ساتھ کر دیا اور وہی غرباء آخر مقوقس اور ہر قل کے مقابلے میں آئے اور دنیا کے فاتح کہلائے۔میرے تو دل میں کبھی آتا ہی نہیں کہ امیر کیوں الہی سلسلوں میں نہیں آتے۔پس میں تمہیں اللہ ہی کے سپر د کر تا ہوں۔(الحکم جلد ۱۶ نمبر ۲۹٬۲۸ مورخه ۲۱،۱۴ را گست ۱۹۱۲ء صفحه ۱ تا ۴) وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ الى الآخر قرآن کریم سے بڑھ کر دنیا کے لئے کوئی نور شفا رحمت، فضل اور ہدایت نہیں ہے اور قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی مجموعہ سچی باتوں کا نہیں ہے۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے۔أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ - اس قرآن کی ایک مختصر سی سورۃ میں اس جمعہ میں سنانے کو کھڑا ہوا ہوں۔ذراسی سورت ہے ایک سطر میں تمام ہو گئی ہے۔لیکن اگر اسی ذراسی سورۃ کو انسان اپنا دستور العمل بنالے تو کوئی چیز اس سے باہر نہیں رہ جاتی۔اس سورۃ کو مولیٰ کریم نے عصر کے لفظ سے شروع فرمایا ہے۔انسان کے واسطے دن معاش کا ذریعہ اور رات آرام کا وقت بنایا ہے اور فرمایا وَ جَعَلْنَا النَّهَارِ مَعَاشًا (النبا : ۱۲) سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی باركَ اللهُ فِي بُكُوْرِهَا (ترمذى كتاب البيوع) فرمایا۔کس قسم کا معاش؟ دنیوی معاش، اخروی معاش کے لئے یہ جگہ ہے۔الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الأخرة ميسا بیج بوؤ گے انجام کا رویسا پھل پاؤ گے۔کون اس بات کو نہیں جانتا کہ جو کے بونے والے کو آخر جو کاٹنے پڑیں گے۔اس دن میں آخری حصہ کا نام عصر ہوتا ہے۔عصر کے بعد کوئی وقت فرضی نماز کے ذریعہ رضاء النبی کے حصول کے لئے باقی نہیں رہتا۔دن کی نمازوں کی انتہا عصر لے اور دن کو روزی کمانے کا وقت سے اللہ نے ان کی صبحوں میں برکت ڈال دی۔سے دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔