حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 345 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 345

حقائق الفرقان ۳۴۵ سُوْرَةُ الْعَصْرِ صبر و استقلال سے مقابلہ کریں۔اللہ تعالیٰ کی ہی توفیق سے یہ ہوسکتا ہے۔مجھے کبھی بھی اس بات کا خیال نہیں ہوتا کہ سننے والے بہت آدمی ہیں یا تھوڑے وہ اعلیٰ طبقہ کے ہیں یا عوام ہیں۔خدا تعالیٰ نے میرے دل سے ان باتوں کو نکال دیا ہے۔میں تو خدا کا کلام پہنچانا چاہتا ہوں خواہ کوئی ایک ہی سنے والا ہو۔یہ بھی یادرکھو کہ جو بڑے آدمی ہیں وہ ہمارے ساتھ سر دست تعلق نہیں رکھ سکتے ہاں وقت آ جائے گا کہ بڑے بڑے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔ہماری سرکار سے (حضرت مسیح موعود ) اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں۔برکت ڈھونڈیں گے۔مگر اس وقت یہ نہیں ہوسکتا کہ جارج پنجم قادیان میں آ جاوے اور آ کر مرید ہو جاوے کیونکہ اگر وہ آئے تو اس کے آنے سے پہلے سڑک ، مکان ، تارگھر وغیرہ سب کچھ فوراً تیار ہو جاوے اور جب وہ وہاں آکر یہ سوچے کہ میرے آنے سے قادیان والوں کو کیا فائدہ ہوا اور مجھ کو قادیان سے کیا فائدہ ہوا؟ تو یہی کہے گا کہ ان غریبوں کے پاس پہلے ہی کیا تھا۔میری وجہ سے ان کو یہ فائدہ پہنچا، وہ نفع ہوا وہ اس پاک صحبت کی قدر نہیں کر سکتا۔پس یہی حال بڑے آدمیوں کا ہوتا ہے۔اس لئے سنت اللہ اسی طرح پر چلی آتی ہے کہ جب کوئی مامور ومرسل دنیا میں آتا ہے تو اولاً اس کو غریب اور ضعیف لوگ قبول کرتے ہیں اور بڑے بڑے لوگ قطع تعلق کر لیتے ہیں۔كَذلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أكبر مُجْرِمِيهَا (الانعام: ۱۲۴)ا کا بر ماموروں کے ساتھ نہیں ہوئے۔غریب اور مسکین ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔پھر ان چھوٹوں کو ان سے نفع پہنچتے ہیں۔میں بھی ایک نمونہ ہوں۔میرا گھر جہاں تھا میرے اب وہ وہم و گمان میں بھی نہیں آتا۔میری ماں اعوان قوم کی ایک زمیندار نی تھی۔اپنی قوم میں وہ اکیلی پڑھی ہوئی تھی اور کوئی مرد یا عورت پڑھے ہوئے نہیں تھے۔قرآن مجید سے اس کو بہت محبت تھی اور ہمیشہ قرآن پڑھایا کرتی تھی۔خدا تعالیٰ نے میری غذا بھی کلام پاک ہی بنائی ہے میں ہمیشہ اس کو سنا کر جیتا ہوں۔میرا باپ ایک غریب اور مسکین آدمی تھا۔اپنی ضرورت کے موافق تجارت کر لیتا تھا۔میں اپنا اسی طرح ہم نے پیدا کئے ہر بستی میں جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والے سردار گناہ گاروں کے۔