حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 344
حقائق الفرقان ۳۴۴ سُوْرَةُ الْعَصْرِ اللہ کا فضل دستگیری کرے تو بات بنتی ہے۔کوئی سات سو برس کی بات ہے۔ایک نازک خیال فہیم کہتا ہے۔مشکلی دارم ز دانشمند مجلس باز پرس تو به فرمایاں چرا خود تو به کمتر می کنند بڑے داناؤں اور ان کی مجلسوں کے پریسیڈنٹوں سے پوچھو مجھے تو بڑی حیرت ہے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا که تو به فرما آپ کیوں تو بہ کم کرتے ہیں۔ساری کتاب میں اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا وہاں ایک جگہ وہ چوٹ کر کے کہتا ہے۔واعظاں کیں جلوہ برمحراب و منبر می کنند چوں بہ خلوت می روند آن کار دیگر می کنند " اس کو سخن شناس سمجھتے ہیں۔اب قرآن کریم کا پڑھنا اور پھر اس پر عمل کرنا اور پھر دوسروں کو پہنچانا اور بالمقابل جب لوگ فتویٰ دیں اور تو تیاں بجانے والوں کے مقابلہ میں صبر کرے تو گھاٹے میں نہیں رہتا۔یہ بھی شہر ہے اور بہت بڑا شہر ہے۔بہت مخلوق اس میں ہے یہاں مسلمانوں کے کئی گروہ ہیں۔ایک گروہ غزنویوں کے قبضہ قدرت میں ہے۔ایک اہل فقہ کی جماعت ہے۔کچھ حصہ ثناء اللہ کے ساتھ ہے اور کچھ پیر کشمیر سے آجاتے ہیں۔ان میں باہم بغض و عناد اور دشمنی ہے اور قرآن مجید سے اس کا پتا لگتا ہے۔فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء (المائدة: ۱۵) آپسی میں ص دشمنیاں تو ہم دیکھتے ہیں پھر شاید یہ بے ادبی ہو اگر ہم ان کو کہیں کہ تم نے قرآن چھوڑ دیا ہے مگر ہم کیا کریں ایسا کہنے پر ہم بھی مجبور ہیں۔کیونکہ قرآن مجید یہی فرماتا ہے اگر کوئی عداوت اور کینہ ہے تو صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو چھوڑ دیا ہے۔میرا ارادہ تھا کہ تمہیں والعصر سنادوں۔خدا کے فضل اور توفیق سے میں نے سنادی ہے البتہ میری یہ خواہش ہے اور زبر دست خواہش ہے کہ جب مسلمان دعوی کرتے ہیں کہ ہم قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں تو وہ اس کو پڑھیں اور اس پر عمل کریں پھر وہ لوگوں کو پہنچائیں اور اگر مخالفت ہو تو ا میرا ایک سوال ہے مجلس کے سب سے ذہین شخص سے دوبارہ پوچھو کہ جولوگ ہمیں تو بہ کی نصیحت کرتے ہیں وہ خود کیوں کم تو بہ کرتے ہیں۔۲۔یہ واعظ لوگ جو محراب اور منبر پر نصیحت کرتے ہیں جب بھی خلوت میں ہوتے ہیں تو ان وعظوں کے برعکس عمل کرتے ہیں۔