حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 340
حقائق الفرقان ۳۴۰ سُوْرَةُ الْعَصْرِ اپنے مقتدا کے خلاف دیکھیں تو جان تک خطرہ میں ڈال دیتے ہیں مگر عمل کچھ نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عملی رنگ میں جزا وسزائے اعمال کے منکر ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں اس عقیدہ باطلہ کو رد کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ جیسے اسباب مہیا کرو گے ویسے ہی نتائج ہوں گے۔اس دعویٰ کا ثبوت ایک قدرتی نظارہ سے دیا جاتا ہے۔وَاليْلِ إِذَا يَغْشی۔رات کی طرف دیکھو اس کے صفات اور آثار الگ ہیں۔جو باغ دن کو راحت بخش ہیں اور جن سے دن کو آکسیجن نکلتی ہے وہی باغات رات کو راحت بخش نہیں اور اب انہیں درختوں سے کاربن نکلتی ہے جو قاطع حیات ہے اور بچوں کے لئے تو وہ خوبصورت درخت رات کو ہوے نظر آتے ہیں۔دانا کہتے ہیں کہ درختوں سے رات کو کار بن نکلتی ہے۔مذہب منع کرتا ہے کہ رات کو درختوں کے نیچے نہیں سونا چاہیے۔دن کی تاثیریں اور عجائبات بالکل جدا ہیں۔وہی درخت جو رات کو کاربن نکالتے تھے دن کو آکسیجن چھوڑتے ہیں اور ہندوؤں نے تو درختوں کے متعلق مذہبی قواعد بنا دیئے بہت دانائی اور عاقبت اندیشی کی۔اس گرم ملک میں بڑ اور پیپل خدا کی نعمت ہے ان کی حفاظت ایسی نہ ہوتی جیسی اب مذہبی پیرائے میں ہو رہی ہے۔غرض رات اور دن کے جدا جدا لوازمات ہیں۔اگر کوئی کہے کہ رات کو درختوں کے نیچے سویا کریں تو وہ نقصان اٹھائے گا۔دن کو باغات کی سیر کرنے اور ان کے نیچے سونے کو پسند کیا جاتا ہے اور اس سے طبیعت میں خوشی پیدا ہوتی ہے۔پھر اگر کوئی اتنا بار یک علم نہ رکھتا ہو تو دن اور رات کے خواص اور تاثیرات پر فلسفی نظر نہ رکھتا ہو تو فرمایا۔وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى عورت و مرد کے مساوات والے پڑھیں : عورت اور مرد کی بناوٹ پر غور کرو۔دوجدا جدا ہستیاں ایک ہی نوع کی ہیں مگر ہر دو کے اعمال اور قدرتی فرائض جدا جدا ہیں۔آج کل تھوڑی تعلیم کے لوگ مساوات کی بحث کرتے ہیں وہ صریح غلطی پر ہیں۔میں ایک مرتبہ کشمیر میں ایک دوست کے مکان پر بلا تکلف چلا گیا۔وہاں ایک بڑا ڈاکٹر موجود تھا۔ڈاکٹر سے مراد علم طب کا ماہر نہیں بلکہ عالم مراد ہے۔اس نے عورتوں اور مردوں کے حقوق کی مساوات پر بحث