حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 339
۳۳۹ حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْعَصْرِ کے بغیر اپنے عہدہ پر متعین نہیں ہوتے۔بڑے بڑے عہدہ داران جیسے چیف کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج ہیں ان سے بھی قسم کی جاتی ہے۔یہ شخصی بات سہی مگر ہماری فاتح قوم نے تو حد کر دی اس کے قانون میں یہ بات لازم ہے کہ مسیحی آدمی قسم کھائے اور باقی کے لئے اقرار صالح کافی ہے۔غرض عوام کا وہ حال ہے اور حکام کا یہ۔بیچ میں رہے فلاسفرز لوگ ان کے لئے قرآن کریم کی قسمیں عجائبات پر مبنی ہیں۔سنن الہیہ یال از آف نیچر سے جب قرآن کریم استدلال کرتا ہے تو فلسفی کا دماغ بھی اس کے ماننے پر تیار ہو جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم میں فلسفی مضمون ہوتا ہے جس کے ماننے میں عقلمند کو مضائقہ نہیں ہوتا اور یہ قسمیں بطور شواہد اور دلائل کے ہوتی ہیں۔میں قرآن مجید سے ایک دو قسموں کے مقام تمہیں سناتا ہوں۔وَ الَّيْلِ إِذَا يَغْشَى - وَ النَّهَارِ إِذَا تَجَلُّى - وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى - إِنَّ سَعْيَكُم کشتی (اليل: ۲ تا ۵) اس سورت کو بھی قسم سے شروع کیا ہے اور اس میں رات دن کے قدرتی مناظر اور ان کے مختلف نتائج اور عورت و مرد کے باہمی تفاوت اور پھر تعلقات اور نتائج کو بطور شاہد پیش کر کے مسئلہ جزائے اعمال کا ثبوت دیا ہے کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا کیا پتا ہے۔نیکوں کو دکھ اور بدوں کو سکھ مل جاتے ہیں۔اس مضمون کو ایک فقیر نے ادا کیا ہے اس کے معنی تولطیف ہو سکتے ہیں مگر عوام نے اس سے اباحت اور جرات سیکھی ہے۔او تھے گھاڑ گھڑیندے ہور۔پکڑن سادھ تے چھڈن چور لیکھا بے پروائیاں دا یعنی دنیا اعتبار کے قابل نہیں ایسے مضامین کبھی لوگ غلط سمجھ لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ حقائق صحیحہ اور نتائج صحیحہ واقعی ہیں یا وہم ہیں۔اس پر دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو مذہب کے پابند ہیں اور بعض مذہب کے پابند نہیں رہے۔بہت سے لوگ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مذہب کا بڑا پابند ظاہر کرتے ہیں اور اگر ذرا بھی بے ادبی لے رات کی قسم ہے جب کہ وہ چھا جائے اور دن کی جب کہ وہ روشن ہو اور اس ذات کی قسم ہے جس نے پیدا کیا مرد و عورت نر و مادہ کو۔بے شک تمہارے کام الگ الگ ہیں۔