حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 338
حقائق الفرقان ۳۳۸ سُوْرَةُ الْعَصْرِ قسمبائے قرآنی کی حقیقت قرآن کریم میں جہاں بڑے بڑے عجائبات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض سورتوں کے شروع میں اور بعض کے درمیان قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔میں نے قرآن مجید کی ان قسموں پر بڑا غور کیا ہے تو میں نے یہ پایا ہے کہ قرآن مجید کی قسمیں معجزانہ رنگ رکھتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔عوام پھر ان سے بڑھ کر سمجھدار پھر ان سے بھی بڑھ کر حکومت پیشہ لوگ۔عوام میں یہ بات مشہور ہے (اگر چہ اس زمانہ میں اس کے خلاف ثبوت موجود ہے) کہ قسم کھانا جھوٹوں کا کام ہے۔پڑھے لکھے نو تعلیم یافتہ بھی یہی کہتے ہیں کہ سویلز یشن کے خلاف ہے، بیہودہ امر ہے۔بہت قسمیں کھانے والے کا اعتبار نہیں کرتے۔قرآن مجید میں بھی ایک جگہ اس کی طرف اشارہ ہے۔لا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَّهَيْنِ (القلم: ۱۱) مگر باوجود اس کے قرآن میں قسمیں موجود ہیں۔میری سمجھ میں ان قسموں میں کچھ حصہ عوام کا ہے کچھ خواص کا اور کچھ حکام کا ہے۔عرب میں اس جہالت کا دور دورہ تھا ان کا اعتقاد تھا کہ قسم ذلیل کر دیتی ہے۔ان میں ایک ضرب المثل یا کہاوت تھی۔کہاوت یا ضرب المثل ایک فقرہ ہوتا ہے جو بڑے تجربوں کا نچوڑ ہوتا ہے۔وہ ضرب المثل جو عربوں میں قسم کے متعلق تھی یہ ہے۔اِنَّ الْأَيْمَانَ تَدَعُ الْأَرْضَ بَلَاقِعَ - قسمیں ملک کو ویران کر دیتی ہیں اور قسمیں کھانے والے کی عزت نہیں رہتی۔اب قابل غور یہ امر ہے کہ جن لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ قسمیں ذلیل کر دیتی ہیں اور ملک کو تباہ کر دیتی ہیں ان کے سامنے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے قسمیں نکلوائیں اور اس طرح پر ان کے اپنے مسلمہ عقیدہ کے رو سے حجت پوری کی کہ عوام کے خیال کے موافق تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نعوذ باللہ ) ذلیل اور ہلاک ہو جاتے مگر آپ روز افزوں ترقی کرتے گئے یہاں تک کہ آپ کے اقبال سے شاہان وقت لرزہ کھا جاتے تھے۔پس عوام کے لئے یہ معجزہ بلکہ آیت اللہ اور سلطان مبین ہے۔حکام کے لئے بادشاہ وقت تک تخت پر بغیر قسم کے نہیں بیٹھ سکتا۔وزراء، پارلیمنٹ کے ممبر قسم ے اور تو کہا نہ مان ہر ایک بڑی جھوٹی قسمیں کھانے والے ذلیل بے عقل کا۔