حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 322
حقائق الفرقان ۳۲۲ سُورَةُ التَّكَاثُرِ میں ڈال دیا جاتا ہے اور روح بھی ایک قسم کے گڑھے میں پڑ جاتی ہے۔جس پر لفظ فتح کا دلالت کرتا ہے۔کیونکہ وہ افعال کسب خیر یا شر پر قادر نہیں ہو سکتی کہ جو جسم کے تعلقات سے اس سے صادر ہو سکتے تھے۔ہماری روح بغیر تعلق جسم کے بالکل لکھی ہے یہ بات بالکل باطل ہے کہ ہم خیال کریں کہ کسی وقت میں ہماری مجرد روح جس کے ساتھ جسم نہیں ہے کسی خوشحالی کو پاسکتی ہے اگر ہم قصہ کے طور پر اس کو قبول کریں تو قبول کریں۔لیکن معقولی طور پر اس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں ہم بالکل سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ہماری روح جو جسم کے ادنی ادنی خلل کے وقت بے کار ہو کر بیٹھ جاتی ہے وہ اس روز کیوں کر کامل حالت پر رہے گی جبکہ بالکل جسم کے تعلقات سے محروم کی جائے گی کیا ہر روز ہمیں تجر بہ نہیں سمجھا تا کہ روح کی صحت کے لئے جسم کی صحت ضروری ہے جب ایک شخص ہم میں سے پیر فرتوت ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی روح بھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔اس کا تمام علمی سرمایہ بڑھاپے کا چور چرا لے جاتا ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔لِكَيْلَا يَعْلَمُ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئاً یعنی انسان بوڑھا ہو کر ایسی حالت تک پہنچ جاتا ہے کہ پڑھ پڑھا کر پھر جاہل بن جاتا ہے پس ہمارا یہ مشاہدہ اس بات پر کافی دلیل ہے کہ روح بغیر جسم کے کچھ چیز نہیں اور یہ خیال بھی انسان کو حقیقی سچائی کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اگر روح بغیر جسم کے کچھ چیز ہوتی تو خدا کا یہ کام لغو ٹھہرتا کہ اس کو خواہ نخواہ جسم فانی سے پیوند دے دیتا اور یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو غیر متناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے۔پس جس حالت میں انسان اس مختصر زندگی کی ترقیات کو بغیر رفاقت جسم کے مجرد دروح سے حال نہیں کر سکتا تو کیوں کر امید رکھیں کہ ان نامتنا ہی ترقیات کو جو نا پیدا کنار ہیں۔بغیر رفاقت جسم کے خود بخود حاصل کر لے گا سو ان تمام دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ روح کے افعال کا ملہ صادر ہونے کے لئے اسلامی اصول کی رو سے جسم کی رفاقت روح کے ساتھ دائمی ہے گوموت کے بعد یہ فانی جسم روح سے الگ ہو جاتا ہے مگر عالم برزخ میں مستعار طور پر ہر ایک