حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 321
حقائق الفرقان ۳۲۱ سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ جاوے تا کہ ہم پر بھی رحم ہو۔اللہ کریم ہم سب کو تو فیق دے۔آمین۔احکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱۔۱۲) الهكم التكاثر - الھا کے معنےکسی چیز سے غافل کر کے دوسری چیز میں مشغول کرنے کے ہیں۔جیسے فرمایا۔رِجَالُ لا تُنْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعَ عَنْ ذِكرِ اللهِ - (النور:۳۸) تكاثر ایک دوسرے پر زیادت مال کی حرص کرنا۔اسی واسطے کہا گیا ہے کہ مَنْ شَغَلَكَ عَنِ اللَّهِ فَهُوَ صَنَمُكَ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۱) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابر - صحیحین میں روایت ہے کہ ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے۔اور دو چیزیں اس کی جوان رہ جاتی ہیں۔ایک ان میں سے حرص مال ہے۔ابوھریرہ سے یہ مروی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ التکاثر پڑھی اور پھر فرمایا۔بندہ کہتا ہے کہ یہ میر امال ہے۔یہ میرا مال ہے۔حالانکہ اس کا مال تو صرف اتنا ہی ہے۔جو کھا لیا وہ تو فنا کر دیا۔اور جو پہن لیا اس کو پرانا کر دیا۔اور جو خدا کی راہ میں دیدیا اس کو آگے کے لئے جمع کیا۔ان تین قسموں کے سوا جو کچھ اور مال ہے وہ تو لوگوں کا ہے۔مقابر کے ذکر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ ارقام فرمایا ہے۔ملخصاً آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔”برزخ لغت عرب میں اس چیز کو کہتے ہیں۔جو دو چیزوں کے درمیان واقع ہوسو چونکہ یہ زمانہ عالم بعث اور عالم نشاء اولے کے کے درمیان واقع ہے اس لئے اس کا نام برزخ ہے۔برزت۔عربی لفظ ہے جو مرکب ہے بر اور تح سے جس کے معنے یہ ہیں کہ طریق کسب عمل ختم ہو گیا اور ایک مخفی حالت میں پڑ گیا۔برزخ کی حالت وہ حالت ہے کہ جب یہ نا پائیدار ترکیب انسانی تفرق پذیر ہو جاتی ہے اور روح الگ اور جسم الگ ہو جاتا ہے اور جیسا کہ دیکھا گیا ہے۔جسم کسی گڑھے لے وہ ایسے لوگ ہیں جن کو غافل نہیں کرتی ان کی سوداگری اور نہ خرید وفروخت اللہ کی یاد سے۔۲، جو چیز تجھے اللہ کے علاوہ کسی اور طرف مشغول کر دے تو وہ تمہارابت ہے۔س موجودہ طرز تحریر میں ” اولی“ لکھا جاتا ہے۔