حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 312 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 312

حقائق الفرقان ۳۱۲ سُوْرَةُ الْعَدِيتِ ے۔اِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكُنُودُ - ترجمہ۔بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔تفسیر۔یہ ساتویں آیت جواب قسم ہے۔گئود گند سے ماخوذ ہے۔اور گند کے معنے قطع کرنے کے ہیں۔رسی کے کاٹ دینے کو گند الحبل کہتے ہیں۔گھوڑا گھاس، توڑی ، بھوسہ کھاتا ہے اور وفاداری میں بڑا جانباز ہے۔انسان ہزاروں قسم کی لذیز سے لذیذ نعمتیں اپنے رب کی دی ہوئی کھاتا ہے اور وفاداری کے وقت اس رشتہ ربوبیت کو کاٹ دیتا ہے۔بے وفا ناز پروردہ انسان جو بھینسے کی طرح پھولا ہوا ہوتا ہے۔اس کی مثال اس شعر میں خوب بیان کی گئی ہے۔روز میداں نہ گاه پرداری اسپ لاغر میاں بکار آید گھوڑا میدان کے دن بڑا چست ہوتا ہے مگر بے وفا انسان کند ہوتا ہے۔کنو د میں اسی بات کو بیان ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۴۰) فرمایا ہے۔و۔وَإِنَّهُ لِحُبّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ - ترجمہ۔اور البتہ وہ مال کی محبت کا بڑا دلدادہ ہے۔تفسیر۔شدید کے معنے بخیل اور ممسک کے بھی ہیں۔فَلَان شَدِيدُوَ تَشَدَّدَ بولا کرتے ہیں۔خير بمعنی مال۔جیسا کہ فرما یا اِن تَرَكَ خَيْرَانِ الْوَصِيَّةُ ( البقرہ: ۱۸۱) محب کے لغت کے معنے پر ہونے اور بھر جانے کے ہیں۔معنے آیت یہ ہیں کہ دل کے ہر گوشہ میں مال کی محبت جاگزیں ہوگئی اور پر ہو گئی ہے کہ رب کی وفاداری کے لئے کوئی گوشہ خالی نہ رہا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۰) ۱۰ تا ۱۲ - اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ۔وَحُقِلَ مَا فِي الصُّدُورِ۔اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَبِذٍ لَخَبِيرُ - ترجمہ۔پس کیا وہ نہیں جانتا کہ جو کچھ قبروں میں ہے انہیں اٹھایا جائے گا۔اور جو کچھ سینوں لے کمزور گھوڑا لڑائی میں کام نہیں آتا ہے نہ پلا ہوا موٹا تازہ بیل ( کہ نمائش کے کام آئے )۔