حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 303

حقائق الفرقان ۳۰۳ سُورَةُ البَيِّنَةِ ٩- جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا اَبَدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّه - ترجمہ۔ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس سدار ہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ اُس میں رہیں گے۔اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی۔یہ اُس کے لئے ہے جو اپنے رب سے خوف رکھتا ہے۔تفسیر۔جو وعدے صحابہ کو دیئے گئے تھے۔وہ صرف آخرت ہی کے نہیں تھے بلکہ دنیا اور آخرت دونوں ہی کے تھے۔دنیا کے انہار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لئے بیجوں۔سیجوں ، دجلہ اور فرات تھے ابداً کی شہادت اس وقت تک کے قبضہ سے موجود ہے۔آیت ۸ میں آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت فرمایا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اعمالِ صالحہ کی کمزوری جس قدر ہو گی۔اسی قدران انہار و جنات وغیرہ کے قبضہ میں بھی کمزوری واقع ہوگی۔اہلِ شیعہ پر بھی یہ آیت شریف حجت ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم کے اعمال اگر اعمالِ صالحہ نہ ہوتے تو یہ انہار و جنات ان کو کس طرح ملتے۔رضی اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ - آگے فرمایا کہ ذلِكَ لِمَنْ خَشِيَ ربه۔معلوم ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم غاصب نہیں تھے۔خشیۃ اللہ ان میں سب سے بڑھ کر تھی۔اس سورۃ کی ابتدا میں تو بتایا کہ مکہ اور مدینہ کے مشرکین اور اہلِ کتاب میں جو انقلاب مقدر تھا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر موقوف تھا۔چنانچہ یہ بات کسی مزید توضیح کی محتاج نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد عرب کی کایا ہی پلٹ گئی اور آپ سے پہلے ساری قو میں تمام فرقے اور اہل مذاہب اپنے مرکز توحید سے دور جا پڑے تھے اور ہر قسم کی بداعتقادیوں، بداخلاقیوں اور بداعمالیوں میں مبتلا تھے۔اس لئے قرآن کریم نے فرمایا۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ - (الروم : ۴۲) علاوہ بت پرست مشرکوں کے، اہل کتاب بھی مختلف قسم کے شرکوں اور عملی نجاستوں میں گرفتار تھے۔اور اس طرح پر روحانی نکتہ خیال سے دنیا مر چکی تھی اور یہ بگڑی ہوئی قو میں اصلاح پذیر نہیں ہو لے ظاہر ہو گیا فساد خشکی اور تری میں۔