حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 302
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ اللہ تعالیٰ بے حد ہر جگہ ہے تو وہ صرف محمد و درحم مریم میں کیونکر سمایا۔جب وہ محیط گل ہے تو جسمانی حدود نے اس کا کیسے احاطہ کیا۔اگر ابن مریم باعتبار مظہر الوہیت ہونے کے ابن اللہ اور الہ مجسم ہے تو پھر کیوں تمام مخلوق مظہر نہیں ہوسکتی؟ اور کیوں ابن اللہ اور الہ مجسم مانی نہیں جاتی۔مسیح کھاتا پیتا لڑکپن سے تیس بتیس برس کی عمر تک پہنچا۔جو کھانے پینے کا محتاج ہوا۔وہ تمام مخلوق کا محتاج ہوا۔پانی ، ہوا، چاند، سورج مٹی ، نباتات، جمادات سب کی ضرورت اسے لاحق ہوئی۔جب محتاج بنا تو خدا صفات کا ملہ کا متصف نہ رہا۔پھر عیسائی کہتے ہیں۔یہود کے ہاتھ سے پٹا اور ان کے ٹھٹھوں میں اڑایا گیا۔آخر ایلی ایلی پکارتے جان دی۔یہ عذاب اور پھر جامع صفات کا ملہ اور الوہیت کا مستحق۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۲۶٬۲۵) اور نہیں حکم کئے گئے وہ لوگ مگر اس بات کا کہ عبادت و پرستش کریں اللہ کی صرف اس لئے خالص کر نیوالے ہوں اپنے دین کو۔( نور الدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۸۰ ) - اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَ الْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خلِدِينَ فِيهَا أُولَبِكَ هُمُ شَرُّ الْبَرِيَّةِ - اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ أوليكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ - ترجمہ۔بے شک جنہوں نے حق چھپایا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے وہ جہنم کی آگ میں ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں۔بے شک جن لوگوں نے پیچھے دل سے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے تو وہی لوگ بہترین مخلوق ہیں۔تفسیر۔بَريَّة اور بَرَايَا دونوں کے ایک معنی ہیں یعنی مخلوق بَراً ، خَلَقَ۔باری خالق کے خداوند تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ / اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۸)