حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 301 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 301

حقائق الفرقان سُورَةُ الْبَيِّنَةِ سب سے الگ ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور ٹھیک نماز کو درست رکھیں اور زکوۃ دیتے رہیں یہی تو قائم دین ہے۔( یعنی عملی حالت کا )۔تفسیر: مُخْلِصِينَ لَهُ الذِينَ احْتَفَاء - حنیف کے معنے خود ہی اس جگہ مخلص موجود ہیں۔دوسری جگہ -۔حَنِيفًا وَمَا آنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔(الانعام: ۴۰) فرمایا ہے۔یہاں بھی عدم شرک جو اخلاص کے مترادف ہے۔حنیف کی صفت بیان ہوئی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ /اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۸) خدا کی عبادت ایسے طور سے کی جاوے کہ کوئی چیز خدا کے سوا دل میں ، زبان میں ، حرکات میں، سکنات میں معبود نہ رہے۔قرآن مجید فرماتا ہے۔وَاعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَمَا أَمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُ اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين حنفاء یہودی اور عیسائی اس اسلامی اصل کا بظاہر اقرار کرتے ہیں اور حسب کتب مقدسہ خود اسلام کے مخالف نہیں۔کیونکہ ان کے یہاں بھی شرع کا بڑا اور پہلا حکم یہی ہے کہ " خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان ، اپنی ساری سمجھ سے پیار کر ( متی ۲۲ باب ۳۷- استثناء ۶ باب ۵) فائدہ۔خلوص کا لفظ اور لا تشرك کا لفظ اس سارے، سارے ساری کہنے سے اعلیٰ درجے پر ہے۔انصاف کرو۔عیسائیوں کے صرف لسانی اور کتابی اقرار کی کیا قدر کی جاوے۔جب وہ اس کے ساتھ مسیح بن مریم جیسے خاکسار بندے کے سر پر الوہیت کا تاج دھرا یقین کرتے ہیں۔اگر وہ کہیں مسیح کوئی علیحدہ اللہ نہیں، بلکہ اسی اللہ خالق زمین و آسمان ، جامع صفات کا ملہ، تمام نقائص سے منزہ نے جب جسم کو قبول فرمایا تو مسیح ابن اللہ کہلایا۔ذاتا وہ ایک ہی ہے۔تو یہ بڑی سخت نافہمی اور غلطی ہوگی۔کیوں؟ عیسائی خدا کو بے حد اور بے انت مانتے ہیں اور اسے ہر جگہ موجود یقین کرتے ہیں۔جب لے سب سے الگ ہوکر، ایک ہی کا بن کر۔میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔کے اور بندگی کرواللہ کی اور مت ملا ؤ ساتھ اس کے کسی کو۔۳ اور نہیں حکم کیے گئے مگر یہ کہ عبادت کریں اللہ کی حاصل اس کے واسطے بندگی ایک طرف ہوکر ( یا ابراہیم کی راہ پر )۔