حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 299
حقائق الفرقان ۲۹۹ سُورَةُ الْبَيِّنَةِ بالطبع ضروری اور لازمی ہوگا کہ کوئی تیسرا حکم اور عدل آوے اور خدائی فیصلہ ان کو خدا کی طرف سے سناوے۔یہی حال ہمارے وقت میں اندرونِ اسلام قرآن کریم ہی سے تمسک کرنے والے مسلمانوں کا ہو گیا تھا۔اہلِ حدیث غیر اہلِ حدیث کے اور ائمہ سلف کے متبعین با ہم ایک دوسرے کے باوجود ایک ہی آسمانی کتاب کے متمسک ہونے کے سخت مخالف ہو گئے تھے۔وقت بتلارہا تھا کہ اب کوئی آسمانی حکم اور عدل آوے۔سو خداوند تعالیٰ کے فضل وکرم سے بمقتضائے وقت حکم و عدل آیا۔چاہیے تو تھا کہ فیصلہ ہو جا تا مگر نظیر موجود ہے کہ لے وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ - (البينة: ۵) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ /اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۷) اہل کتاب اور مشرکوں کا کا فر گروہ اپنی شرارت و کفر سے کبھی نہ ٹلتے۔اگر اللہ کا ایسا رسول جو ایک کھلی دلیل ہے نہ آتا۔اور یہ پاک صحیفہ جس میں تمام مضبوط کتا بیں موجود ہیں۔نہ پڑھ سناتا۔( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۵۴ حاشیہ) گزشتہ ایام میں چونکہ رستے صاف نہ تھے۔تعلقات باہمی مضبوط نہ تھے۔اس لئے ایک ایک قوم میں نبی اور رسول آتے رہے۔جب مشرق اور مغرب اکٹھا ہونے لگا۔خدا کے علم میں وہ وقت خلط ملط کا آ گیا۔تو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔انبیاء علیہم السلام اور جس قدر رسول آئے۔فرداً فرداً قوموں کی اصلاح کے لئے آئے۔ان کا جامع اور راستبازوں کی تمام پاک تعلیموں کا مجموعہ قرآن کریم ہے۔جو جامع اور مھیمن کتاب ہے۔فِيهَا كُتُب قيمة فرمایا۔الحکم جلد ۳ نمبر ۷ مورخه ۳/ مارچ ۱۸۹۹ ء صفحه ۴) فِيهَا كُتُب قيمة۔کل دنیا کی صداقتیں اور مضبوط کتا بیں سب کی سب قرآن مجید میں الحکم جلد ۳ نمبر ۱۷ مورخه ۱۲ مئی ۱۸۹۹ ء صفحه ۱) موجود ہیں۔کل دنیا کی مضبوط کتابیں اور ساری صداقتیں اور سچائیاں اس میں موجود ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۱۶) لے اور اہل کتاب نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس آ چکی کھلی دلیل۔