حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 298

حقائق الفرقان ۲۹۸ سُورَةُ الْبَيِّنَةِ سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ مَدَنِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - اُس با برکت اللہ کے اسم شریف کی مدد سے پڑھتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے۔۲ ۳ ۴ - لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنقَلِينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ - رَسُولُ مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً - فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ - ترجمہ۔نہ تھے وہ لوگ جو منکر ہوئے اہل کتاب و مشرکوں میں سے باز آنے والے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آجاتی (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم )۔یعنی اللہ کی طرف سے رسول جو صحیفے پڑھتا ہو۔جس میں پائدار کتابوں کی صداقتیں ہیں۔و درسور تفسیر۔لم يكن۔۔۔منتقدین کے معنے یہ ہیں کہ اہلِ کتاب کے تمامی فرقے اور مشرکین کے لَمْ تمامی فرقے شرک اور بت پرستی کے اغلال سے کبھی جدا ہونے والے نہ تھے۔اگر بینہ نہ آتی۔آگے بینہ کے معنی خود ہی بیان فرما دئے۔آیت شریفہ میں پستہ دیا گیا ہے اس بات کا کہ رسول کے آنے کا زمانہ کب ہوتا ہے۔پہلے پارہ کے چودہویں رکوع میں بھی رسول کے آنے کے زمانہ کی خبر دی ہے۔جہاں فرمایا ہے۔وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصْرَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصْرُى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ لے يَتْلُونَ الكتب - (البقره: ۱۱۴) اور مزہ یہ ہے کہ دونوں ہی فرقے آسمانی کتاب سے استدلال لے رہے ہیں۔دونوں فرقوں کے پاس آسمانی کتاب ہو اور پھر وہ باہم استدلال میں ایک دوسرے کی مخالفت میں تل جائیں۔تو لے اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی حقیقت و ہدایت پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی سچائی و ہدایت پر نہیں حالانکہ دونوں کتاب پڑھتے ہیں۔