حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 296 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 296

حقائق الفرقان ۲۹۶ سُوْرَةُ الْقَدْرِ ہے۔یعنی ذکر بھی نازل ہوا اور رسول بھی نازل ہوا۔قرآن شریف رَسُولُ يَتْلُوا نہیں ہے۔رَسُوْلًا ہے۔غرض کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور اور آپ کی بعثت کے انوار پوری آب و تاب کے ساتھ قرونِ ثلاثہ مَشْهُودُ لَّهَا بِالْخَيْرِ تک تھے۔ہزار مہینے گزرنے تک دنیا نے ظلمانی حالت پھر اختیار کر لی اور پھر وعدہ البى لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنَ الْفِ شَهْرٍ کا پورا ہوا فَهَلُمَّ جَدًّا۔اسی طرح سے ہر ہزار مہینے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے اس قرآنی وعدہ کے بموجب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کے دین کی تجدید کے لئے ہر صدی پر جوقریب ہزار مہینے کے بعد آتی ہے مجدد دین کو نازل فرما تارہا۔ان اللہ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔حدیث نبوی اور آیت قرآنی دونوں متفق ہو گئے۔قرآن شریف میں پیغمبروں کی نسبت جبکہ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمُ مَنْ لَمْ نَقْصُصُ عَلَيْكَ - (المومن:۷۹) آیا ہے تو مجدددین کی تفتیش کہ کون کون تھے۔یہ عبث ہے۔لوگ جن جن کو مجد دقرار دیں گے ہم ان کو مان لیں گے۔مگر دیکھنا تو یہ ضروری ہے کہ ہماری اس صدی چہار دہم میں یہ وعدہ قرآن شریف کا اور حدیث شریف کا وقوع میں آیا بھی یا نہیں۔اگر اور صدیوں میں وقوع میں آتا رہا اور اس صدی میں وقوع میں نہیں آیا تو ہمارے جیسا بد بخت اور کوئی نہیں کہ ظلمت میں چھوڑ دیا گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ ۲۲ اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۷٬۳۳۶) ۵ - تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ - ترجمعہ۔اس میں فرشتے اور کلام الہی اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں ہر ایک ضروری کام میں۔تفسیر مِن كُلِّ آمد کے معنے لِكُلِ آمر ہیں۔ہر کام کی سلامتی سے یہ مراد ہے کہ پیغمبرصلی اللہ ج علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی سے زمانہ نے اپنی دینی و دنیوی دونوں قسم کی ترقیات کا رنگ پکڑ لیا۔سائنس کی نت نئی تحقیقات اور ان کی ایجادیں دنیوی اعتبار سے مِن كُلِّ امْرِ سلم کی طرف مصداق ہو رہی ہیں۔تو دینِ اسلام کی اشاعت اور اس کی ترقی دوسرے پہلو پر مِنْ كُلِّ اَمْرٍ سَلم کو ے یقینا اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے سر پر ایک مجدد مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔۲۔اُن میں سے بعض تو ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے تجھ کو بیان کئے اور سنا دیئے اور بعض ایسے ہیں جن کے حالات تجھ کو نہیں سنائے۔