حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 295 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 295

حقائق الفرقان ۲۹۵ سُوْرَةُ الْقَدْرِ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَه (الانعام: ۱۲۵) پس تم خوب یا درکھو کہ انبیاء دنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہوتے۔جیسے کہ سلیمان کی نسبت شیاطین نے دنیا میں مشہور کیا۔اگر دنیا میں کوئی کسی کی شکل بن سکتا ہے تو امان ہی اٹھ جائے۔مثلاً ایک نبی وعظ کرنے لگے۔اب کسی کو کیا معلوم کہ یہ نبی ہے۔یا نعوذ باللہ کوئی برا آدمی ہے۔خدا نے ایسی و باتوں کا رد فرما دیا ہے کہ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلَكِنَّ الشَّيطِينَ كَفَرُوا (البقره: ۱۰۳) تم ایسی باتوں سے توبہ کر لو۔اگر کوئی ایسا وعظ سنائے تو صاف کہہ دو کہ انبیاء کی ذات جامع کمالات ایسے افتراؤں سے پاک ہے۔( بدر جلد ۱۰ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۷ / جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ - ترجمہ۔شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔لیلۃ القدر کے اگر صرف اسی قدر معنے ہوتے کہ رمضان شریف کے آخری دھا کہ میں طاق راتوں میں سے ایک رات لیلتہ القدر ہے وبس۔اس کے علاوہ اور کوئی مطلب نہیں۔تو اس صورت میں بارہ مہینے ہی بجائے ہزار مہینے کے کافی تھے۔کیونکہ دوسرے رمضان شریف میں تو لیلتہ القدر پھر دوبارہ بالیقین موجود ہے۔پھر اس سے آگے اور آئندہ رمضان شریف فَهَلُمَّ جَدًّا۔ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ کسی سال تو رمضان شریف میں لیلتہ القدر ہوتی ہے اور کسی سال نہیں ہوتی۔نہیں بلکہ بالیقین رمضان شریف میں ہر سال کسی نہ کسی طاق رات میں لیلتہ القدر ضرور ہوتی ہے۔خواہ ستائیسویں کو ہو یا اکیسویں کو مگر پہلی آیت میں اس سورہ شریف کے جیسا کہ بیان ہوا ہے۔انزَلْنَهُ کا مرجع منزّل علیه القرآن بھی ہے اور ایک اور مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف دونوں کو ایک ساتھ نازل شدہ فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا قَد أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُم ذِكْرًا رَّسُولًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آیت الله - " (الطلاق : ۱۱، ۱۲) اس جگہ ذکرا کا بدل رَسُولاً واقع ہوا ل اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت رکھنی چاہیے۔اور سلیمان تو حق چھپانے والی باتوں سے کوئی تعلق نہ رکھتا تھا لیکن شریر ہلاک کرنے والوں ہی نے کفر کیا۔بے شک اللہ نے تم کو نصیحت کرنے والا رسول نازل فرما دیا ہے۔جو پڑھتا ہے تم پر اللہ کی کھلی کھلی آیتیں۔