حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 20

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْجِنِ ۴،۳ - يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَأَمَنَا بِهِ وَ لَنْ تُشْرِكَ بِرَتِنَا أَحَدًا وَ أَنَّه تعلى جَدُّ رَبَّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَهُ وَلَا وَلَدًا - ترجمہ۔جو نیک راہ سکھاتا ہے تو ہم نے تو اسے مان لیا اور ہم تو کبھی شریک نہ ٹھہرائیں گے اپنے رب کا کیسی کو۔اور یہ کہ بہت اونچی شان ہے ہمارے رب کی نہ تو کوئی اس کی جورو ہے نہ بیٹا۔تفسیر۔اب جنات نے اس قرآن کو قبول کرنے اور ایمان لانے کے دلائل بیان کئے۔جن میں سے پہلی دلیل یہی ہے کہ وہ توحید کا مذہب ہے۔مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا۔یہ دوسری دلیل ہے۔اور عیسائیوں کے اس صاحبہ اور ولد والے نا پاک عقیدہ کی نفی کرتے ہوئے قرآن شریف سے ماقبل تو رات ہی کا ذکر کیا۔انجیل کا ذکر نہیں کیا۔فرمایا۔ولد تو صاحبہ کا نتیجہ ہے۔جب صاحبہ نہیں تو ولد کہاں سے آیا۔چوتھی صدی تک یہود عزیز کو ابن اللہ کہتے تھے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵،۱۶ مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۱۲ ء و ۲۸ / مارچ ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۱٬۲۹۰) ۵- وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللهِ شَطَطًا - ترجمہ۔اور یہ بھی کہا کہ ہم میں کے بے وقوف لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کیا کرتے تھے۔تفسیر۔سفاہت موٹی سمجھ سفیہ ، موٹی عقل والا۔سفاھت کے معنے اضطراب ضعیف الرائے ہونا۔شَطَطًا۔دروغ گوئی ، بڑھ بڑھ کر باتیں کرنا ، زیادتی کرنا۔(ضمیمه اخبار بدرقادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۱۲، صفحه ۲۹۱) -٦- وَاَنَا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ تَقُولَ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللهِ كَذِبًا - ترجمہ۔اور یہ ہمارا خیال تھا کہ ہرگز نہ بولیں گے انسان اور جن اللہ پر کوئی جھوٹی بات۔تفسیر۔وہ کہتے ہیں۔ہمارا تو خیال تھا کہ کوئی امیر یا غریب ایسا نہیں کر سکتا کہ خدا پر جھوٹ بولے مگر افسوس ہے کہ قرآن اور اس کے رسول کے متعلق جو خبر میں لوگوں نے مشہور کر رکھی ہیں۔وہ جھوٹی نکلیں اب خود قرآن کے سننے سے معلوم ہوا کہ وہ سچی کتاب ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۱۲، صفحه ۲۹۱)