حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 289
حقائق الفرقان ۲۸۹ سُوْرَةُ الْعَلَقِ گو بے وضو بھی جائز ہے مگر کم از کم تیم کر لیا جاوے تو بہتر ہے۔دعا کے لئے سجدہ ایک بے نظیر موقع ہے جس کو زبان عربی نہ آتی ہو وہ اپنی مادری زبان ہی میں تسبیح کے ساتھ اپنی مشکلات کے لئے دعا بھی کرلے۔سجدات کے وقت کی دعائیں خطا نہیں جاتیں۔یہ وقت بہت ہی قرب الہی کا وقت ہوتا ہے۔جس قدر سجدات کی تعداد زیادہ ہوگی۔اسی قدر قرب کے مدارج بھی زیادہ ہوں گے۔جن کے لئے یہ نعمت مقدر ہی نہیں وہ اس ادنی سی حرکت کی توفیق پانے سے محروم رہتے ہیں۔الدُّعَاءُ مُح الْعِبَادَةِ دعا تمام عبادتوں کا مغز ہے اور سجدہ تمام منازل قرب کا انتہائی مقام ہے۔یہ دونوں باتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔اس کلامِ الہی میں پانچ پیشگوئیاں ہیں۔اوّل۔رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ربوبیت الہی نے جو تیری خاص پرورش فرمائی ہے اور اپنے اندازہ خاص سے قومی مرحمت کئے اور خاص کلام کے لئے تجھے منتخب کیا ہے۔اور اپنے ہاتھ سے تیرا پیٹ لگایا ہے اور تیرے مبارک پھلوں کے انتظار میں بیٹھی ہے وہ تجھے ضرور کامیاب اور سرسبز کرے گی اور تیرے نو نہال کو اعداء کے تبر اور مخالف جھونکوں سے محفوظ رکھے گی۔دوسری پیشگوئی خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ یعنی اس منی کے کیڑے یا جونک کی طرف دھیان کرو کہ وہ کیسا حقیر اور ذلیل تھا جس کا ایسا خوبصورت اور باکمال انسان بنا۔جب ہماری ربوبیت نے نظر عنایت سے ایک کیڑے کو اس صورت و شکل تک پہنچایا ہے اور ایک مقصد اور غایت کے لئے جو ربوبیت کا اصلی نقاضا ہے۔یہ خلعت کمال مرحمت فرمایا ہے۔تو کیا اب ہماری ربوبیت اس کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ہم اپنی ربوبیت کا سایہ عاطفت اس پر رکھیں گے۔جب تک وہ انسان اپنی خلقت کی علت غائی کو پہنچ نہ جائے۔قرآن کریم میں تدبر کرنے والے جانتے ہیں کہ نبوت کی تربیت اور اُسے کمال مطلوب تک پہنچانا خدا تعالیٰ کے اسم رب کا خاصہ ہے۔اور جہاں جہاں خدا تعالیٰ نے ضرورت نبوت کی قرآن کریم میں بحث چھیڑی ہے دلیل میں اپنے اسم رب کو مذکور فرمایا ہے اس لئے کہ جیسے اس ربوبیت نے انسان کے عالم اجسام کے لئے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی اشیاء کو