حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 288 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 288

حقائق الفرقان ۲۸۸ سُوْرَةُ الْعَلَقِ مشورہ کرنے کے لئے لوگوں کو پکار کر بلایا جاتا تھا۔جی چاہتا ہے کہ ہمارے وطن کے علماء جو قوم کے پیشوا کہلاتے ہیں اپنے لئے بجائے ندوۃ العلماء کے قدوۃ العلماء نام تجویز کر لیں تو بہتر ہے۔بلبلا مشردہ بہار بسیار خبر بد به بُومِ شوم گذار كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ أَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا زَبَانِيَّة- زَبن سے مشتق ہے جس کے معنے دفع کے ہیں۔جن اور انس میں سے ہر متمرد شخص کو زبنية کہتے ہیں۔اکثر اہل لغت کا قول ہے کہ زبانیہ ان جمعوں میں سے ہے۔جن کا مفر نہیں۔جیسے ابا بیل وغیرہ۔غرض کہ زبن جس کے معنے دفع کے ہیں۔ابتدا ہی سے اسلام میں یہ قاعدہ رکھا گیا ہے کہ جنگ صرف دفاعی طور پر کی جائے۔آیت باب کے الفاظ کی ترتیب بھی یہی تعلیم دے رہی ہے۔پہلا مقابلہ نادیہ اور زبانیہ کا اسلام میں بدر کے دن ہوا۔لکھا ہے کہ مکہ معظمہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ابو جہل نے ایک ایسا طمانچہ مارا تھا۔جس سے ان کا کان پھٹ گیا تھا۔بدر کے دن حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ہی کو اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کا سر کاٹنے کے لئے اس پر مسلط کیا۔جب سرکاٹ چکے تو اس کے کان میں رسہ پرو کر سر کو گھسیٹتے ہوئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں لایا گیا۔اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا - أُذُنْ بِأُذُنِ وَالرَّأْسُ هُهُنَا مَعَ الْأُذُنِ - ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۲۲ اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۵) لا لَا تُطِعُهُ وَاسْجُدُ وَاقْتَرِبُ - ترجمہ۔نہیں نہیں اس کا کہا نہ مان اور سجدہ کر اور اللہ کے نزدیک ہو۔تفسیر وَاسْجُدُ وَ اقْتَرِب - قرآن کریم کے سجدات تلاوت میں سے یہ آخری سجدہ ہے۔ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ بندہ سجدہ کی حالت میں خدا وند تعالیٰ سے بہت ہی نزدیک تر ہوتا حدیث شریف کا اور اس آیت شریف کا مطلب گویا کہ ایک ہی ہے۔وضو نہ ہو تو تیم ہی کافی ہے۔لے اے بلبل بہار کی خوشخبری لاؤ۔بری خبر کو کینوس پر چھوڑ دیں۔سے حکمت کا کلمہ مومن کی گمشدہ میراث ہے وہ اسے لے لیتا ہے جہاں بھی اسے پاتا ہے۔۳ کان کے بدلے کان اور سر بھی کان کا حصہ ہے۔