حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 274
حقائق الفرقان کتراتی ہے۔۲۷۴ سُورَةُ التّينِ۔پرانے جغرافیوں اور قدیم کھنڈرات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ اسمعیل کہاں آباد ہوئے جہاں وہ مقام ملے۔وہی ان کی سکونت کا مقام ہوگا۔اور وہی مقام وادی فاران ہے۔حضرت اسمعیل کے بارہ بیٹے تھے۔پہلا نبایوت عرب کے شمال مغربی حصے میں آباد ہوا۔ریورنڈ کا تری پی کاری ایم اے نے اپنے نقشے میں اس کا نشان ۳۸ ده ۳ درجه عرض شمالی اور ۳۶ و ۳۸ درجہ طول مشرقی کے درمیان میں لگایا ہے۔ریورنڈ مسٹر فاسٹر کہتے ہیں۔کہ نبایوت کی اولا دعر بیا پیٹرا سے مشرق کی طرف عربیپی ڈیز رٹا تک اور جنوب کی طرف خلیج الا متک و حجاز تک پھیل گئی تھی۔اسٹر بیبر کے بیان سے پایا جاتا ہے کہ نبایوت کی اولا د نے اس سے بھی زیادہ ملک گھیر لیا تھا۔اور مدینے تک اور بندرحور اور بندر نیو تک جو بحر قلزم کے کنارے پر ہے۔اور مدینے سے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ان کی عمل داری ہو گئی۔ریورنڈ مسٹر فاسٹر کہتے ہیں کہ اس مختصر بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبایوت کی اولا دصرف پتھر یلے میدانوں میں نہیں پڑی رہی بلکہ حجاز اور مسجد کے بڑے بڑے ضلعوں میں پھیل گئی۔ممکن ہے کہ رفتہ رفتہ نبایوت کی اولا د عرب کے بہت بڑے حصے میں پھیل گئی ہو۔الا یہ بات کہ نبایوت کی سکونت اور اس کی اولاد کی سکونت عرب ہی میں تھی۔بخوبی ثابت ہے۔دوسرا بیٹا قیدار نبایوت کے پاس جنوب کی طرف حجاز میں آباد ہوا۔ریورنڈ مسٹر فاسٹر لکھتے ہیں کہ اشعیا نبی کی کتاب سے بھی صاف صاف قیدار کا مسکن حجاز ثابت ہوتا ہے۔جس میں مکہ اور مدینہ بھی شامل ہے۔اور زیادہ ثبوت اس کا حال کے جغرافیے میں شہر الحذر اور بنت سے پایا جاتا ہے۔جو اصل میں القیدار اور بنا یرث ہیں۔یور نفیس اور بطلمیوس اور پلینے اعظم ا معنی لفظ قیدار صاحب الا بل۔ابن خلدون جلد دوم صفحہ ۳۳۱۔لفظ قیدار کے معنی ہیں اونٹوں والا۔معلوم ہوا کہ قیداری حضرت اسماعیل کے ولی عہد اور معتنی به شخص تھے۔آپ کا نام بھی عرب اور اس کی خصوصیات سے عجیب مناسبت رکھتا ہے۔