حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 270
حقائق الفرقان ۲۷۰ سُورَةُ التَّيْنِ ایک گدھے کا بچہ منگوایا اور اس کے ذریعے سے اپنی نسبت ایک بڑی پشین گوئی کو ثابت کیا دیکھولو قا باب ۱۹۔۳۰ متی باب ۲۱-۱- مرقس باب ۱۱-۱ تین کے درخت کے پاس ایک معجزہ ظاہر کیا۔دیکھو مرقس باب ۱۱۔۱۴۔اور انجیر کا نشان دینے پر ایک شخص ایمان لایا۔یوحنا باب ۱۔۴۸۔وادی فاران اور دشت فاران کی تفسیر قرآن نے یہ فرمائی ہے کہ فاران سے شہر مکہ مراد ہے۔جہاں مسیح جیسا بشیر اور موسی جیسا بشیر و نذیر نکلا۔جس کی شریعت کی نسبت کہا گیا۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائده: ۴) ا۔فاران کے پہاڑ سے ایسا ظاہر ہوا کہ تمام دنیا اس کا لوہا مان گئی۔اس کے داہنے ہاتھ میں شریعت روشن ہے۔اس کا لشکر ملائکہ کا لشکر ہے۔اس کے سبب سے خدا جنوب سے آیا۔اس کی ستائش سے زمین بھر گئی۔موافق اور مخالف نے محمد محمد یا احمد احمد پکارا۔اس سے زیادہ زمین ستائش سے اور کیا بھرتی۔دشمن بھی محمد کے نام سے پکارتے ہیں۔پرانے عربی ترجموں میں ”اس کی ستائش سے زمین بھر گئی کے بجائے یہ لفظ لکھے ہیں۔وَامْتَلأَ الْأَرْضُ مِنْ تَحْمِيدِ أَحْمَدَ - نوٹ۔محمد بمعنے ستائش کیا گیا اور احمد بڑا ستائش کیا گیا۔کیونکہ صیغۂ افعل مبالغہ فاعل اور مفعول دونوں کے لئے آتا ہے۔۲۔سینا کی جنوبی حد سے فاران شروع ہوتا ہے۔مکہ ، مدینہ اور تمام حجاز فاران میں ہے۔کون دنیا کی ابتداء سے سوائے نبی عربی صاحب شریعت ستائش کیا گیا۔یعنی محمد یا احمد کے فاران میں پیدا ہوا۔۔وادی فاطمہ سے میں گل جذیمہ یعنی پنجہ مریم بیچنے والوں سے پوچھو کہ وہ پھول کہاں سے لاتے لے آج میں نے پورا کر دیا تمہارے لئے دین کو تمہارے اور پوری کر چکا میں اوپر تمہارے نعمت کو اپنی اور پسند کیا میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین۔۲؎ اور بھر گئی زمین ستائش سے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی۔وادی فاطمہ کے اور مدینے کے درمیان ایک پڑاؤ ہے۔ملکی زبانی روایتوں کے رو سے جو تواریخ قدیمہ کی جز و اعظم خیال کی جاتی ہیں یہ ثبوت بھی عجیب ثبوت ہے۔