حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 269 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 269

حقائق الفرقان ۲۶۹ سُورَةُ الدِّينِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - اس بابرکت اللہ کے نام کی مدد سے پڑھتا ہوں جو رحمن و رحیم ہے۔ - وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ - ترجمہ۔ قسم ہے انجیر اور زیتون کی ۔ سُورَةُ الدِّينِ تفسیر تین۔ زیتون - طور حضرت عیسی و حضرت موسی کے لئے تجلی الہی کی جگہ اور یہ بلدا مین آپ کے لئے ۔ تشحیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۸) ”خدا سینا سے نکلا اور سعیر سے چمکا اور فاران کے پہاڑ سے ظاہر ہوا۔ اس کے داہنے ہاتھ میں شریعت ہے۔ ساتھ لشکر ملائکہ کے آیا توریت کتاب ۵ باب ۳۳-۲) آئے گا اللہ جنوب سے اور قدوس فاران کے پہاڑ سے۔ آسمان کو جمال سے چھپا دیا اس کی ستائش سے زمین بھر گئی ۔ حبقوق باب ۳۔ ۳۔ سینا سے موسی جیسا بادشاہ صاحب شریعت ظاہر و باطن نکلا۔ سعیر سے جس کے پاس بیت لحم اور ناصرہ ہے مسیح ظاہر ہوا۔ قرآن نے اس پشین گوئی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بیان کیا ہے۔ دیکھو۔ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سِينِينَ وَهُذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ ان تین مقامات کی خصوصیت نہایت غور کے قابل ہے۔ عہد عتیق میں اس تخصیص کی وجہ مفصل مذکور ہوئی تھی۔ قرآن کا طرز ہے کہ جس بات کی تفصیل عہد عتیق وجدید میں نہ ہو۔ اس کی تفصیل کرتا ہے اور جس کا بیان وہاں مفصل ہو اس کی طرف مجمل اشارہ کرتا ہے۔ اب دیکھو۔ قرآن نے مسیح کے ہو اشارہ ہے جواب نے مبدائے ظہور کو تین اور زیتون سے تعبیر فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیتون کے پہاڑ کے پاس مسیح نے اے قسم انجیر کی اور زیتون کی ۔ اور طور سینین کی اور اس شہر امن والے کی ۔