حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 266 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 266

حقائق الفرقان ۲۶۶ سُوْرَةُ المُ نَشْرَحْ پھرتے ، جماع ، ولادت۔موت اور قسم قسم کی آیات اللہ جیسے خسوف کسوف اور ان کے متعلق الہی یادگاریں اور دعائیں اور قوانین تجویز کرنا پھر ایسے آرام سے بیٹھنا کہ بیویوں کو کہنا کہ آؤ میں تمہیں جاہلیت کے زمانہ کی کہانیاں سناؤں۔اگر آپ کو شرح صدر کے متعلق کوئی وقت ہے تو اس آیت پر توجہ کرو جس میں لکھا ہے فَمَنْ يُرِدِ اللهُ اَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ (الانعام: ۱۲۶) وہی صدر کا لفظ اس میں موجود ہے۔اس شرح صدر کے لیے ضرور ہے کہ صاحب شرح صدر کو ایک نظارہ دکھا یا جاوے جس میں اس کا سینہ چیر کر اس میں حکمت و نور و ایمان بھر دیا جاوے۔طوائف الملوکی کے زمانہ میں کس طرح آنحضرت نے گزارہ کیا۔نصرانیوں کی سلطنت جبش اور یہودیوں کے ماتحت کس طرح گزارہ کیا۔پھر جب آپ نے جمہوری سلطنت وہاں قائم کی ہے تو کس طرح گزارہ کیا ہے۔پھر عرب جیسے بے قانون ملک کو کس طرح قانون کے نیچے جکڑ دیا ہے یہ وہی جانتا ہے جو سر حدی مشکلات سے واقف ہو۔٣۔وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ - ترجمہ۔اور ا تا رد یا تیرے اوپر سے تیرا بوجھ۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۰ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۷ء صفحه ۷،۶) تفسیر۔سینہ کی تنگی۔یہ سب سے بڑھ کر وڈ ر انسان پر ہوتا ہے۔عالی ہمتی اور فراخ حوصلگی کے برابر سبکدوش رکھنے والی انسان کے لئے کوئی دوسری چیز نہیں۔(ضمیمه اخبار بدرقادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ راگست ۱۹۱۲، صفحه ۳۳۲) اور سنو۔فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبينا - (الفتح : ٢) کے معنے آپ لوگوں کو معلوم نہیں۔اس آیت شریف کی تفسیر کے لئے قرآن ہی عمدہ تفسیر ہے۔اور وہ آیت مفسرہ آیت اَلَم نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ " ہے فتح سے مراد ہے۔دل پر علوم باری اور آسمانی بادشاہت کے اسرار کا کھولنا اور جب وہ کھلتے ہیں تو تو بہ اور خشیت اور خوف الہی پیدا ہوتا ہے۔جس کے باعث گناہ نہیں رہتے۔انسان نئی زندگی پاتا ہے۔نیا جلال حاصل کرتا ہے۔فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۱۶۲) ا ہم نے تجھ کو کھلم کھلا فتح دی۔ہے کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔اورا تارد یا تیرے اوپر سے تیرا بوجھ۔