حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 263

حقائق الفرقان ۲۶۳ سُورَةُ أَلَمْ نَشْرَحُ سُوْرَةُ أَلَمْ نَشْرَحْ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ انشراح کو اس بابرکت اللہ کے اسم مبارک سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو رحمن و رحیم ہے۔ ۲۔ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - ترجمہ۔ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔ تفسیر۔ اس سے ماقبل کی سورۃ سورۃ الضحی میں ظاہری و جسمانی انعامات کا ذکر تھا ۔ اور اس سورہ شریفہ میں آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو روحانی نعمتیں ہوئیں ان کا ذکر ہے۔ شرح صدر ایک کشفی کیفیت تھی جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہوئی تھی۔ جبکہ آپ کی عمر دس سال سے کچھ اوپر تھی اور بعد میں نبوت کے زمانہ میں بھی دوبارہ وہ کشفی اور روحانی معاملہ شرح صدر کا آپؐ سے کیا گیا۔ ظاہری اثر اس کا آپؐ پر یہ تھا کہ جو وسیع الحوصلگی آپ کی تھی ۔ اس کی نظیر اوروں میں تو کیا اولوالعزم نبیوں میں پ پر یہ بھا بھی پائی نہیں جاتی۔ نوح علیہ السلام نے قوم سے دکھ اٹھا کر رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ ديارا ديارا - ( نوح : کہہ ۲۷) دیا اور اور موسیٰ علیہ علیہ الصلوۃ والسلام قوم - سے دکھ اٹھا کر وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْآلِيم - (یونس : ۸۹) کی دعا کرتے ہیں۔ مگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب طائف کے شریروں سے اس قدر پتھروں کی مار سے دُکھ اٹھا یا کہ سارا بدن آپؐ کا خون آلود ہو گیا۔ اس وقت آپ نے فرمایا تو یہ فرمایا کہ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( بخاری کتاب الانبیاء باب ۵۴) جبرئیل علیہ السلام نے طائف والوں کی ہلاکت کے لئے عرض کیا تو فرمایا ا اے میرے رب ! نہ چھوڑ خاص زمین پر کافروں کا کوئی گھر بسنے والا ۔ ۲ اور سخت کر دے اُن کے دل کہ وہ تجھ پر ایمان ہی نہ لائیں جب تک نہ دیکھ لیں ٹیس دینے والا عذاب سے اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیونکہ یہ ( مجھے ) نہیں جانتے۔