حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 262 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 262

حقائق الفرقان ۲۶۲ سُوْرَةُ الضُّحى بڑھتی ہے۔لیکن مفارقت میں بھی ایک کشش ہوتی ہے جو محبت کے مدارج عالیہ پر پہنچاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ایک ذریعہ قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قلق اور کرب میں ترقی ہوتی ہے اور روح میں ایک بے قراری اور اضطراب پیدا ہوتا ہے جس سے وہ دعاؤں کی روح اس میں نفخ کی جاتی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر یارب یارب کہہ کر اور بڑے جوش اور شوق اور جذبہ کے ساتھ دوڑتی ہے جیسا کہ ایک بچہ جو تھوڑی دیر کے لئے ماں کی چھاتیوں سے الگ رکھا گیا ہو بے اختیار ہو ہو کر ماں کی طرف دوڑتا اور چلاتا ہے۔اسی طرح پر بلکہ اس سے بھی بے حد اضطراب کے ساتھ روح اللہ کی طرف دوڑتی ہے۔اور اس دوڑ دھوپ اور قلق و کرب میں وہ لذت اور سرور ہوتا ہے جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔یادرکھو روح میں جسقد را ضطراب اور بے قراری خداوند تعالیٰ کے لئے ہوگی اسی قدر دعاؤں کی توفیق ملے گی اور ان میں قبولیت کا نفخ ہو گا۔غرض یہ ایک زمانہ ماموروں اور مرسلوں اور ان لوگوں پر جن کے ساتھ مکالمات الہیہ کا ایک تعلق ہوتا ہے آتا ہے اور اس سے غرض اللہ تعالیٰ کی یہ ہوتی ہے کہ تا اون کو محبت کی چاشنی اور قبولیت دعا کے ذوق سے حصہ دے اور ان کو اعلیٰ مدارج پر پہنچا دے۔تو یہاں جو ھٹی اور تیل کی قسم کھائی ہے۔اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج عالیہ اور مراتب محبت کا اظہار ہے اور آگے پیغمبر خدا کا ابراء کیا کہ دیکھو دن اور رات جو خدا نے بنائے ہیں ان میں کس قدر وقفہ ایک دوسرے میں ڈال دیا ہے۔ضحی کا وقت بھی دیکھو اور تاریکی کا وقت بھی خیال کرو۔مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ - خدا تعالیٰ نے تجھے رخصت نہیں کر دیا اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند کر دیا جاتا ہے تا کہ ان میں دعاؤں کے لئے زیادہ جوش پیدا ہو اور نٹی اور لیل کو اس لئے بطور شاہد بیان فرمایا ہے تا آپ کی امید وسیع ہو اور تسلی اور اطمینان پیدا ہو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۱)