حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 261
حقائق الفرقان ۲۶۱ سُوْرَةُ الضُّحى طالب اور عاشق خود پایا تو اس نے اپنے ملنے کی راہ بتادی۔اور تجھے بہت جور و نیچے والا پایا پھر اس نے تجھے غنی کر دیا۔تو تو یتیم پر خفانہ ہونا۔اور سائل کو نہ جھڑکنا اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کرتے رہنا۔تفسیر۔اس سورہ شریف کے ابتدا سے اخیر تک ایک عجیب طور پر لف ونشر بیان ہوا۔آیات نمبر ۴ و نمبر ۷ دنمبر ۱۰ ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور آیات نمبر ۵ ونمبر ۸ و نمبر ۱۱ ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور آیات نمبر ۶ و نمبر ۹ نمبر ۱۲ ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں۔قلی کے مقابلہ میں يَتِيماً فَأَوَى اور الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ ہے۔خَيْرٌلَّكَ مِنَ الْأولی کی تشریح ضَالَّا فَهَدی سے اور السائل فَلا تنهر سے کی۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ ضال کے معنے سائل یعنی سالک راہِ طریقت کے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں دوسری جگہ اِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ (یوسف: ۹۶) فرمایا۔یعنی آپ تو یوسف کی محبت میں اپنے آپ کو گم گشتہ کئے ہوئے ہو۔يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَی کے مقابلہ میں آغلی اور بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيثُ ہے۔یتیم کے ساتھ لا تفھر کی نہی اور سائل کے ساتھ لا تنهر کی نہی یوں مناسبت رکھتی ہے کہ سائل کا تعلق صرف ایک وقتی تعلق رکھتا ہے۔تھوڑے ہی عرصہ کے لئے اور لا تفهَرُ کے معنے یہ ہیں کہ اس پر ہمیشہ دباؤ نہ ڈالتے رہو۔اس کے مال میں اسے مقہور نہ کرو۔گھر۔گھر کے معنے میں یہی آیا۔گھر خفیف دباؤ۔قَهَر سخت دباؤ۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۱) وَوَجَدَكَ ضَالَّا میں ضلال کا اثبات نبی کریم کے لئے ہے۔مگر مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ (النجم : ۳) میں ضلال کی نفی بھی آپ کے حق میں موجود ہے۔تو دونوں پر ایمان لا کر ایک جگہ ضلال کے معنے محب طالب سائل کے کرو۔جو وَ أَمَّا السَّائِلَ فَلا تنہر کی ترتیب سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسری جگہ گمراہ کے معنے لو جو ماغوی کے مناسبت سے درست ہیں۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳) نکتہ معرفت۔رات اور ضعفی کی قسم میں ایک عجیب ستر ہے یا درکھنا چاہیے کہ یہ ایک مقام ہے جو ان لوگوں کے لئے جو سلسلہ وحی سے افاضہ حاصل کرتے ہیں آتا ہے۔وحی کے سلسلہ سے شوق اور محبت