حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 253 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 253

حقائق الفرقان ۲۵۳ سُوْرَةُ الَّيْلِ کو بیان کرتا ہے وہاں جس چیز کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے۔وہ چیز قانونِ قدرت میں قسم والے مضمون کے لئے ایک قدرتی شاہد ہوتی ہے۔اور یہ قسم قدرتی نظاروں میں اپنے مطلب کی مثبت ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوگا۔مثلاً إِنَّ سَعيكم لشتی الخ۔ایک مطلب ہے جس کے معنے ہیں۔لوگو! تمہارے کام مختلف ہیں اور ان کے نتائج بھی الگ الگ ہیں۔قرآن مجید اس مطلب کو قانونِ قدرت سے اس طرح ثابت کرتا ہے۔وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى - وَ النَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى - وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى (الليل: ۲ تا ۴) کیا معنی؟ رات پر نظر کرو جب اس کی کالی گھٹا چھا جاتی ہے۔پھر دن کی بناوٹ پر غور کرو جب وہ اپنے انوار کو ظاہر کرتا ہے پھر مرد اور عورت کی خلقت اور بناوٹ پر نظر ڈالو۔اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوچو۔تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہو گا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ الگ اور ان کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں۔ایسے ہی باری تعالیٰ کے نام پر جان و مال کو دینے والے اور نافرمانیوں سے بچنے والے اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کے مصداق اور اس کے مقابل جان اور مال سے دریغ کرنے والے نافرمان اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کے مکذب بھی الگ الگ نتیجہ حاصل کریں گے۔حضرت امام حجتہ الا نام نے توضیح میں فرمایا ہے۔تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام عادت وسنت الہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات واحقاق کے لئے ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے۔جو اپنے خواص کا عام طور پر بین اور کھلا کھلا اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں۔جیسا کہ اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہوسکتا کہ سورج موجود ہے اور اس کی دھوپ بھی ہے۔اور چاند بھی موجود ہے اور وہ نور آفتاب سے حاصل کرتا ہے۔اور روز روشن بھی سب کو نظر آتا ہے اور رات بھی سب کو دکھائی دیتی ہے اور آسمان کا پول بھی سب کی نظر کے سامنے ہے اور زمین تو خود انسانوں کی سکونت کی جگہ ہے۔اب چونکہ یہ تمام چیزیں اپنا اپنا کھلا کھلا وجود اور کھلے کھلے خواص رکھتی ہیں۔جن میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا۔اور نفس انسان کا ایسی چھپی ہوئی اور نظری چیز ہے کہ خود اس کے وجود میں ہی