حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 252
حقائق الفرقان ۲۵۲ سُوْرَةُ الَّيْلِ ہماری پاک کتاب میں قسموں کا ہونا ایک معجزہ ہے اور عظیم الشان معجزہ ہے۔بلکہ اسلامی اصطلاح کے مطابق ایک آیت اور نشانِ نبوت ہے اور عظیم الشان نشانِ نبوت ہے۔کیونکہ عرب میں ایک مثل تھی۔ان الْأَيْمَانَ تَدَعُ الْأَرْضَ بَلاقِع قسمیں ملک کو ویران کر دیتی ہیں۔اور منو کہتا ہے۔۱۱۱ کیونکہ جھوٹی قسم کھانے سے اس لوگ میں اور پر لوگ میں نشٹ ہوتا ہے۔پنجابی میں مثل ہے۔جھوٹی قسم تاں پٹ مار دی اے‘ اب سوچو اور خوب سوچو کہ قرآن اور صاحب قرآن اس قدر قسموں کے ساتھ کیسا فاتح اور کیسا کامیاب ہوا کہ اس کے دشمنوں کا نام ونشان نہ رہا۔ذرا اس پر غور و تامل کرو! ان قسموں کا ثبوت تجارب وضرب المثلوں اور منو کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے اور تمہارے خیال میں ایک مجنون اور جھوٹے کا فعل ہے۔جلسہ مہوتسو کے اسلامی مضمون میں امام مہدی نے اور بھی واضح فرما دیا ہے۔اور بانی اسلام تو تمہارے نزدیک جیسے ہیں۔تمہارے اقوال و افعال سے ظاہر ہے۔مگر دیکھ لو کہ کس طرح روز افزوں ترقی اسلام اور بانی اسلام اور عرب کو ہوئی۔پس اگر قسم زہر تھی تو اس نے تریاق کا کام دیا اور اگر حق ہے تو کیسی حقیقت حق کی ظاہر ہوئی کہ تمہارے ملک میں بھی آبرا جا۔سنو! مطالب دو قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل بڑے ضروری۔دوسرے ان سے کم درجہ کے۔بڑے ضروری مطالب کو بہ نسبت دوسرے مطالب کے تاکید اور براہین اور دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔یہ میرا د عمومی بہت صاف اور ظاہر ہے۔تاکید کے لئے ہر زبان میں مختلف کلمات ہوا کرتے ہیں۔ایسے ہی عربی زبان میں بھی تاکید کے لئے بہت الفاظ ہیں مگر ایشیائی زبانوں میں۔۔۔علی العموم قسم سے بڑھ کر کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے ہی عربی کے لٹریچر میں بھی قسم سے زیادہ کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔اس لئے اس میں عربی محاورات پر ضروری مطالب میں قسموں کا استعمال بھی ہوا ہے۔رہی یہ بات کہ اہم اور ضروری امور میں براہین اور دلائل کا بیان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔قرآن کریم نے ان مطالب میں قسموں کے علاوہ اور کیا ثبوت دیا ہے۔سو یا در ہے جہاں قرآن کریم کسی مطلب پر قسم