حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 250 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 250

حقائق الفرقان ۲۵۰ سُوْرَةُ الَّيْل سُوْرَةُ الَّيْلِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم پڑھنا شروع کرتے ہیں سورۃ اللیل کو اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔۲ تا ۵- وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى - وَ النَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْأُنثَى إِنَّ سَعَيكُم تشفى - ترجمہ۔رات کی قسم ہے جب کہ وہ چھا جائے۔اور دن کی جب کہ وہ روشن ہو۔اور اُس ذات کی قسم ہے جس نے پیدا کیا مرد و عورت نر و مادہ کو۔بے شک تمہارے کام الگ الگ ہیں۔تفسیر۔ماحصل ان چاروں آیتوں کا ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ نتائج ہر کام کے اس قدر نکلیں گے جس قدر کہ خیر یا شر کے وہ کام کئے گئے ہیں ع گندم از گندم بروید جو زجول رات دن کا کام نہیں دیتی۔دن رات کا کام نہیں دیتا۔مرد جن کاموں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں عورتوں سے وہ کام نہیں ہوتے۔عورتیں مردوں کا کام نہیں دے سکتیں۔ہر ایک کے مختلف کام اپنے حسب حال مختلف نتیجے پیدا کرتے ہیں۔یہ تمہید اس سورہ شریفہ کی ہے۔تفسیروں میں بیان ہوا ہے کہ سورہ شریفہ کا نزول حضرت ابوبکر اور امیہ بن خلف کافر کے متضاد مختلف کوششوں کے بارہ میں ہوا ہے۔مضمون سے اور واقعات کے لحاظ سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔مگر اعتبار عموم لفظ کا ہے۔نہ خصوص سبب کا۔ہمارے اس وقت کے حسب حال صادق کو قبول کرنے والے اور دینی کاموں میں چندہ دینے والے اور ان کے مخالفوں کے لئے بھی خصوصیت سے اس سورہ شریف میں عبرت ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ /اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۹) گندم سے گندم اور جو سے جو ہی پیدا ہوتے ہیں۔