حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 16
حقائق الفرقان ۱۶ سُوْرَةُ نُوح کو بھی جب تباہ کا رسیہ روز گار شریروں نے دُکھ دیا تو آخر اُن میں سے ایک بول اُٹھا۔رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا۔في الحقيقت اُن پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ شریر نفوس کی حیاتی بھی پسند نہیں کرتے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کا اتنا حوصلہ کہاں ہوسکتا ہے کہ سارے جہان سے اس کا مخلصانہ تعلق ہو۔پس اس سلسلہ کو وسیع کرنے کے باوجود محدود کرنے کے لئے نکاح کا ایک طریق ہے جس سے ایک خاندان اور قوم میں ان تعلقات کی بناء پر رشتہ اخلاص اور محبت پیدا ہوتا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۵ مورخه ۲۶ فروری ۱۹۰۸ صفحه ۲) ۲۸ - إِنَّكَ إِنْ تَذَرُهُم يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا - ترجمہ۔بے شک اگر کہیں تو ان کو چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے اور جو جنیں گے وہ تو بد کارگتا کافر ہی ہوگا۔تفسیر۔اگر تو چھوڑے تو یقیناً بہکا دیں تیرے بندوں کو۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۱۶ حاشیه )