حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 248 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 248

حقائق الفرقان ۱۳ - إِذا نُ بَعَثَ أَشْقَهَا - ۲۴۸ ترجمہ ۔ جب ان میں سے ایک بڑا بد بخت اٹھا۔ تفسیر تکذیب کے لئے ایک بڑا بد بخت پیش قدم ہوا ۔ سُورَةُ الشَّمْسِ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ راگست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۲۹) ۱۴ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ وَسُقُيهَا ۔ ترجمہ تو اُن کو اللہ کے رسول نے سنا دیا کہ اللہ کی اونٹنی کو ہاتھ نہ لگانا اور اس کا پانی نہ بند کرنا۔ تفسیر ۔ اس وقت کے رسول نے انہیں نصیحت کے طور پر کہا کہ ناقتہ اللہ یعنی خدائے تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقةُ اللہ سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس بھی در حقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تاوہ ناقتہ اللہ کا کام دیوے۔اس کے فنافی اللہ ہونے کی حالت میں خدائے تعالیٰ اپنی پاک محلی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی انٹنی پر سوار ہوتا ہے۔ سونفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں ۔ تہدید اور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناقَةُ الله کا سُفیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یا دالنبی اور معارف النبی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موقوف ہے۔ اس پر بند کر رہے ہو۔ اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کی فکر میں ہوتا وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے۔ ( بحواله توضیح مرام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۴) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۲۸، ۳۲۹) ۱۵ ، ۱۶ - فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمُدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوْنَهَا - وَلَا يَخَافُ عُقْبُهَا - ترجمہ ۔ تو انہوں نے رسول کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں ۔ تو ان کے رب نے ان پر