حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 246
حقائق الفرقان ۲۴۶ سُوْرَةُ الشَّمْسِ اس جگہ یہ سوال ہوگا کہ جو نفس انسان کے موجود بالذات ہونے کے لئے قسموں کے پیرایہ میں شواہد پیش کئے گئے ہیں۔ان شواہد کے خواص بدیہی طور پر نفس انسان میں کہاں پائے جاتے ہیں اور اس کا ثبوت کیا ہے کہ پائے جاتے ہیں۔اس وہم کے رفع کرنے کے لئے اللہ جل شانہ اس کے بعد ( بحوالہ توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۷۷ تا ۸۲۹۸۰) فرماتا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ راگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۸٬۳۲۷) ۹ تا ۱۲ - فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبِهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكُتهَا - وَقَدْ خَابَ مَنْ دشتها - كَذَبَتْ ثَمُودُ بِطَغُونَهَا - ترجمہ۔اور پھر نفس انسان کے لئے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی دونوں راہیں کھول دیں۔بے شک جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور کلی اخلاق ذمیمہ سے دست بردار ہو گیا وہ مراد کو پہنچا۔اور جس نے اسے (بے جا خواہشوں کی ) خاک میں گاڑ دیا وہ نامرادرہا۔محمود نے اپنی سرکشی سے تکذیب کی۔تفسیر۔یعنی خدائے تعالیٰ نے نفس انسان کو پیدا کر کے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی دونوں راہیں اس کے لئے کھول دی ہیں۔جو شخص ظلمت اور فجور یعنی بدکاری کی راہیں اختیار کرے تو اس کو ان راہوں میں ترقی کے کمال درجہ تک پہنچایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اندھیری رات سے اس کی سخت مشابہت ہو جاتی ہے اور بجر معصیت اور بدکاری اور پر ظلمت خیالات کے اور کسی چیز میں اس کو مزہ نہیں آتا ایسے ہی ہم صحبت اس کو اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ایسے ہی شغل اس کے جی کو خوش کرتے ہیں اور اس کی بدطبیعت کے مناسب حال بد کاری کے الہامات اس کو ہوتے رہتے ہیں یعنی ہر وقت بدچلنی اور بدمعاشی کے ہی خیالات اس کو سوجھتے ہیں۔کبھی اچھے خیالات اس کے دل میں پیدا ہی نہیں ہوتے۔اور اگر پرہیز گاری کا نورانی راستہ اختیار کرتا ہے تو اس نور کو مدد دینے والے الہام اس کو ہوتے رہتے ہیں۔یعنی خدائے تعالیٰ اس کے دلی نور کو جو تنم کی طرح اس کے دل میں موجود ہے۔