حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 245

حقائق الفرقان ۲۴۵ سُورَةُ الشَّمْسِ از سر نو قوی اور توانا ہو جاتا ہے اور اس تھوڑی سی محجوبیت کی وجہ سے بڑے بڑے مراحل نورانی طے کر جاتا ہے اور ماسوا اس کے نفس انسان میں رات کے اور دوسرے خواص دقیقہ بھی پائے جاتے ہیں جن کو علم ہیئت اور نجوم اور طبعی کی باریک نظر نے دریافت کیا ہے۔ایسا ہی انسانِ کامل کے نفس کو آسمان سے بھی مشابہت ہے۔مثلاً جیسے آسمان کا پول اس قدر وسیع اور کشادہ ہے کہ کسی چیز سے پڑ نہیں ہوسکتا۔ایسا ہی ان بزرگوں کا نفس ناطقہ غایت درجہ کی وسعتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور باوجود ہزار ہا معارف و حقائق کے حاصل کرنے کے پھر بھی مَا عَرَفنَاكَ کا نعرہ مارتا ہی رہتا ہے اور جیسے آسمان کا پول روشن ستاروں سے پُر ہے ایسا ہی نہایت روشن قو می اس میں بھی رکھے گئے ہیں کہ جو آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو زمین سے بھی کامل مشابہت ہے۔یعنی جیسا کہ عمدہ اور اول درجہ کی زمین یہ خاصیت رکھتی ہے کہ جب اس میں تخم ریزی کی جائے اور پھر خوب قلبہ رانی اور آب پاشی ہو اور تمام مراتب محنت کشاورزی کے اس پر پورے کر دیئے جائیں تو وہ دوسری زمینوں کی نسبت ہزار گونہ زیادہ پھل لاتی ہے اور نیز اس کا پھل بہ نسبت اور پھلوں کے نہایت لطیف اور شیر میں ولذیذ اور اپنی کمیت اور کیفیت میں انتہائی درجہ تک بڑھا ہوا ہوتا ہے۔اسی طرح انسانِ کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذ اس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خدائے تعالیٰ کی پاک قدرت یاد آکر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا پڑتا ہے۔سو یہ آیت وَ نَفْسٍ وَمَا سونها صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ انسانِ کامل اپنے معنے اور کیفیت کے رو سے ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون وصفات و خواص اجمالی طور پر اپنے اندر جمع رکھتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے شمس کی صفات سے شروع کر کے زمین تک جو ہماری سکونت کی جگہ ہے سب چیزوں کے خواص اشارہ کے طور پر بیان فرمائے یعنی بطور قسموں کے ان کا ذکر کیا۔بعد اس کے انسان کامل کے نفس کا ذکر فرمایا تا معلوم ہو کہ انسان کامل کا نفس ان تمام کمالات متفرقہ کا جامع ہے جو پہلی چیزوں میں جن کی قسمیں کھائی گئیں الگ الگ طور پر پائی جاتی ہیں۔۔۔