حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 15
حقائق الفرقان ۱۵ سُوْرَةُ نُوح ۲۔سُواع۔بقائے عالم کا بت جو عورت کی شکل میں ہوتا ہے۔اس کے مقابل ہند و میتھالوجی میں پشن ہے۔يَغُونَ۔حاجت روائی اور فریادرسی کا دیوتا۔اس کی شکل گھوڑے کی تھی۔شاید اس واسطے کہ فریادرسی کے لئے تیز رفتاری کی ضرورت ہوتی ہے۔اس طرح ہندوؤں میں اندر دیوتا ہے۔يَعُوق۔عوق سے مشتق ہے۔بمعنے روکنا اور دفع کرنا یہ مصیبتوں اور دشمنوں کے روکنے کا رودة بت تھا۔بشکل شیر۔ہندوؤں میں اس کے بالمقابل شنگھ اوتار دیوتا ہے۔-۵- نَسْرًا۔طول عمر کا دیوتا بشکل باز بنا ہوا ہوتا ہے۔یہی بت اس قوم کی ہلاکت کا موجب ہوئے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۶ مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۰٬۲۸۹) ۲۷ - وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَارًا - ترجمہ۔اور نوح نے عرض کی اے میرے رب ! نہ چھوڑ خاص زمین پر کافروں کا کوئی گھر بسنے والا۔تفسیر۔حضرت نوح نے آخر تنگ آ کر اپنی قوم کے حق میں بددعا کی۔انبیاء کی بددعا سے ڈرنا چاہیے یہ بہت خوفناک بات ہے۔حضرت نوح نے اپنی قوم کے حق میں بددعا کی۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجو دسخت تکالیف اٹھانے کے کبھی اپنی قوم کے حق میں بد دعا نہیں کی۔بلکہ یہی دعا کرتے رہے کہ رَبّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُون۔اے میرے رب میری قوم کو ہدایت کر کیونکہ وہ نہیں جانتے۔حضرت نوح کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صبر، حوصلہ، رحم اور ہمدردی بہت بڑھی ہوئی ہے۔اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آخر ساری قوم عرب ہدایت یافتہ ہوگئی۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۶ مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۰) بہت سے وجوہات ہیں جو ہم پر حمد الہی کو فرض ٹھیراتے ہیں۔منجملہ جناب الہی کی حمدوں کے یہ ہے کہ انسان کا حوصلہ ایسا وسیع نہیں کہ وہ ساری دنیا سے تعلق رکھے اور محبت کر سکے۔نبیوں اور رسولوں