حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 239
حقائق الفرقان ۲۳۹ سُورَةُ البلد باپ اور بیٹے دونوں کے ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے۔لیسان اور شفتین سے زمزم کو پی کر دیکھو کہ یہی ان کو محن کے ایام میں اکل و شرب کا کام دیتا تھا۔صفا اور مروہ کی دونوں ٹکڑیوں پر جا کر دیکھو کہ کس قدر پریشانی ان کو تھی یہاں والد اور ولد کے ساتھ والدہ بھی شامل ہے۔یہ ایک تنگ اور دشوار گزار درہ تھا جس میں سے وہ تینوں علیہم الصلوۃ گزر گئے عَيْنَيْن شفتین اور تجدین سے بچہ کی سمجھ ، اُس کا دودھ چوسنا اور ماں کے پستان بھی مراد سمجھے گئے ہیں۔اس میں بھی کوئی خلاف نہیں۔برگ درختان سرو در نظر هوشیار ہر ورقے دفتر لیست معرفت کردگار کے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم راگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۶) ۱۲ - فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ - ترجمہ۔تو وہ اچھل کر گھائی پر کیوں نہیں چڑھ گیا۔سیر - اقتحام کے معنے کسی خطرناک جگہ میں بغیر پس و پیش کوسو چے دھنس جانے کے ہیں۔کما قال الله تعالى هَذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ (ص:۲۰) یہ آیت شریفہ دوزخیوں کے دھسان کے بارے میں ہے۔عرب بولا کرتے ہیں۔فَحَمَ فِي الْأَمْرِ فَحُومًا آتَ رَى بِنَفْسِهِ فِي الْأَمْرِ بِغَيْرِ رُؤْيَتِهِ - عقبہ۔پہاڑ کے دڑے اور گھائی کو کہتے ہیں کہ بسبب تنگ اور دشوار گزار ہونے کے پھیل کر اس میں سے نہیں گزر سکتے۔بلکہ ایک کے عقب میں دوسرے کو راستہ کی تنگی کی وجہ سے چلنا پڑتا ہے۔اس اقتحام عقبہ کو ذیل کی چند آیات میں ایثار لنفس وغیرہ سے تعبیر کیا ہے۔ایثار جبھی ہوسکتا ہے۔جبکہ انسان اپنی تنگی کو قبول کر لے اور دوسرے کی راحت کو مقدم کر دے۔یہ ایک دشوار گزار گھائی ہے۔دنیا کی مفتوح قو میں جب کبھی فاتح بن گئی ہیں تو اسی اقتحام کی وجہ سے بن گئی ہیں۔غیر آباد مقامات بلدان ہو گئے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم و ۸ راگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۷٬۳۲۶) ا سرو کے درختوں کے پتے بھی ایک سعید فطرت انسان کی نظر میں ان میں سے ہر ایک پستہ خدا تعالیٰ کی معرفت کا ایک رجسٹر ہوتا ہے۔۲ یہ ایک جماعت ہے کہ خوب مضبوطی سے گھسنے والی ہے تمہارے ساتھ۔وہ کام میں بلا پس و پیس اور سوچ لگ گیا یعنی اس نے اپنے آپ کو کام میں بغیر دیکھے لگا دیا۔