حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 237 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 237

حقائق الفرقان ۲۳۷ سُوْرَةُ الْبَلد آیتوں تک غور کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کی سات آیتوں کی طرح ان ابتدائی سات آیتوں میں مضمون نصفا نصف مشترک ہے اور اس پانچویں آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ میں یہ ظاہر فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو شاہانہ شان وشوکت ملے گی وہ آپ کی محنتوں اور جانفشانیوں کا نتیجہ ہے اور کفار کو جو جان و مال کی تباہی دیکھنی پڑے گی وہ ان کی الٹی محنتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہو گا۔مکہ کی فتح اور کفار کی شکست پر آیت کریمہ آن ليْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى (النجم :۴۱۴۴۰)۔خوب اچھی طرح سے روشنی ڈالتی ہے۔اب بعد ان چار یا ساڑھے تین آیتوں کے روئے سخن کفار کی طرف ہے۔یہ ثابت کر کے کہ انسان ایک مکلف اور جوابدہ ہستی ہے پھر ان اعمال صالح کی ہدایت کی جو انسان کو سعادت کی گھاٹیوں پر لے جاتے ہیں اور وہ شفقت علی خلق اللہ سے شروع ہوتے ہیں۔ان آیات میں بھی مکہ والوں کو ڈرایا ہے کہ تمہارا انسانی اور اخلاقی فرض یہ تھا کہ یتیموں اور مسکینوں سے سلوک کرتے مگر تم نے در یتیم کی قدر نہ کی۔ہاں جنہوں نے قدر کی وہ مومن ہیں اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔باوجود یکہ کی زندگی میں ان کو طرح طرح کے مصائب اور مشکلات پیش آئے لیکن پھر بھی وہ حوصلہ اور برداشت سے کام لے رہے ہیں اور نیکیوں پر دوام اور استقلال سے کام لیتے ہیں اور خلق اللہ پر شفقت کا اظہار کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جو اصحاب المیمنہ ہیں اور جنہوں نے آیات اللہ کا انکار کیا ہے وہ آتشی جیل خانہ میں جائیں گے یعنی منکرین رسالت و نبوت محمدیہ کے لئے ایک خطر ناک عذاب میں ہے۔چنانچہ یہ سب باتیں پوری ہو گئیں اور جیسا کہ شروع میں کہا گیا ہے کہ وہ نبوت محمدیہ کی صداقت کے دلائل ٹھہر ہیں۔ویلہ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه تیم راگست ۱۹۱۲ ، صفحه ۳۲۶) الْحَمد - - اَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌ - کیا اس کا یہ خیال ہے کہ اس پر کسی کا بس نہ چلے گا۔تفسیر کن نفی تاکیدی زمانہ مستقبل کے لئے ہے۔اور يَقْدِر کے ساتھ علی کا لفظ ہے جو ضرر لے اور یہ کہ آدمی کو وہی ملے گا جو اس نے عمل کیا۔اور وہ اپنی کوشش کا ضرور نتیجہ دیکھ لے گا۔