حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 236
حقائق الفرقان ۲۳۶ سُوْرَةُ الْبَلَدِ اسی خدا کا منشاء ہے کہ ایک یتیم بے سروسامان کو بادشاہ بنادے۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم را گست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۶٬۳۲۵) وَ انْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ - ترجمہ - حالانکہ تیرا قتل تو یہاں ( بزعم کفار ) حلال ہو گیا ہے۔ تفسیر اور تو شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ اس شہر میں محل ہو نیوالا ہے۔ یعنی نزول کرنے والا ہے۔ آیت کریمہ ان الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلى مَعَادٍ (القصص: ۸۶ ) کا بھی یہی مطلب ہے ۔ صحیحین کی روایت سے ثابت ہے کہ آسمان وزمین کی پیدائش کے وقت سے اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے محرم بنایا ہے اور قیامت تک اس کا محرم ہونا باقی رہے گا صرف آپ کو فتح مکہ کے دن ایک ساعت کے لئے اجازت قتال کی دی گئی تھی اور وہ بھی اسی لیے کہ وَانْتَ حِل بِهَذَا الْبَلَدِ یعنی قتل کے لئے اسی بلد محرم میں کفار نے آپ کی نسبت ارادہ کر لیا تھا گویا والحرمات قصاص کا منشاء پورا ہوا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم را گست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۶) تجھ کو اس شہر میں ذبح کرنا حلال سمجھا گیا ۔ ( تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۸) ۴- وَ وَالِدِ وَمَا وَلَدَ - ترجمہ اور قسم ہے باپ اور اس کی اولاد کی ۔ تفسیر۔ مکہ کے ام القری ہونے کی وجہ سے اہلِ مکہ اپنے آپ کو اوروں کا والد سمجھتے تھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ گویا یوں فرماتے ہیں کہ ہم تو سب والدوں کے بھی والد ہیں۔ بہتر نمونہ والد اور ولد کا حضرت ابراہیم اور اسمعیل ہیں۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم را گست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۶) ۵۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ - ترجمہ ہمیں نے پیدا کیا آدمی کو محنت کشی میں ۔ تفسیر انسان اپنے دشمن کو دکھ پہنچانے میں سنگدلی اور بے رحمی تو کرتا ہے اور یہ بے رحمی اور سنگدلی جب اُس پر الٹ پڑتی ہے تو طرح طرح کی سختیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔سورۃ کی ابتداء سے سات