حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 235
حقائق الفرقان ۲۳۵ سُورَةُ البلد سُوْرَةُ الْبَلَدِمَكِيّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ بلد کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس بابرکت اللہ کے نام سے جس نے نیک بننے کے لئے سب ضروری سامان مہیا کئے اور ان سے کام لینے والوں کو اب بھی نیک بدلہ دینے کے لئے تیار ہے۔پچھلی سورۃ میں بتایا تھا کہ اہل مکہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کر رہے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سنت اللہ کے موافق یہ بھی عذاب الہی میں گرفتار ہوں گے کیونکہ مامورین و مرسلین کے مخالفین اور منکرین کا انجام یہی ہوا کہ وہ بالآخر تباہ اور ہلاک ہو گئے۔اس سور ۃا میں اس شہر پر عذاب آنے اور اس میں تاخیر کی وجہ بتائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں۔جو انسان کو بدی اور سرکشی پر دلیر اور بے باک کر دیتے ہیں اور ایسا ہی یہ بھی بتا یا کہ وہ ایک جوابدہ ہستی ہے اور اشرف المخلوقات ہے اس لئے ضرور ہے کہ ایسی اعلیٰ اور اشرف ہستی پر کچھ فرائض اور حدود ہوں۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے قومی دیئے ہیں اور نیکی بدی کا راستہ بنا کر اس کی تمیز فطرت میں رکھ دی ہے۔اس پر بھی اگر وہ اعمال صالحہ نہ کرے تو سخت افسوس ہے۔اعمال صالحہ کی تصریح اور بالآخر بتایا کہ جو آیات اللہ کا انکار کرتے ہیں وہ طعمہ نارہوں گے یہ خلاصہ ہے اس سورپکا۔و ۲ - لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ - ترجمہ۔اس شہر کی کیا قسم کھائیں۔تفسیر۔مخاطب کے مافی الضمیر میں جو امور مستعد معلوم ہوتے ہیں۔اس کی نفی کے لئے کلمہ لا ہے۔بعض تفسیروں میں اس کی نسبت لکھا ہے۔الْمُرَادُ وَ الْأَمْرُ كَمَا وَهَبُوا یعنی جیسا انہوں نے خیال کیا ہے ویسا نہیں بلکہ ایسا قسم کے ساتھ مکہ معظمہ کو جلد کے نام سے اس لیے ذکر فرمایا کہ توجہ دلائے کہ یہی بلد ا یک وقت ایک مقام غیر آباد غیر ذی زرع تھا۔اور اب جس خدا نے اس کو بلد بنا دیا ہے۔